’’جشن نو روز اور بازار بزرگ‘‘

15 مارچ 2018

ایران میں جشن نو روز کی تیاریاں عروج پر ہیں جشن نو روز فارسی بولنے والے ملکوں میں ایک طرح کی عید ہے۔ تہران کی شاہراہوں اور گلیوں میں رات بھر پٹاخے بجائے اور گولے مارے جاتے جس طرح ہمارے ہاں عید ‘ شب برات اور دوسری تقریبات میں ہوتا ہے۔ رات کو آتش بازی کی جاتی ہے جشن نو روز ایران میں زرتشتی دور سے منایا جا رہا ہے۔ زرتشت دور میں آگ کی پرستش کی جاتی تھی۔ جشن نو روز کے سلسلے میں ایک روایت یہ بھی پوری کی جاتی ہے کہ آگ جلا کر اس پر کودا جاتا ہے۔ 21 مارچ سے جشن نو روز کی چھٹیاں ہو جائیں گی۔ ایران میں یہ بہار کا موسم ہے۔ جشن نو روز کے دوران تہران خالی ہو جائے گا تہران میں مقیم لوگ یہاں سے ان علاقوں میں چلے جائیں گے جو ان کے آبائی علاقے ہیں۔ بالکل اسی انداز میں جس طرح اسلام آباد سے لوگ عید منانے کیلئے اپنے اپنے آبائی علاقوں میں چلے جاتے ہیں۔ یہاں دو ہفتے کے لئے یہ جشن یا عید منائی جاتی ہے۔ اس دوران اخبارات بھی شائع نہیں ہوتے۔
پاکستانی صحافیوں کے گروپ کو منگل کے روز تہران کے کچھ علاقوں کی سیر کرنے کا بھی موقع ملا۔ ہمیں یہاں میدان فردوسی یعنی فردوسی چوک سے گزرنے کا موقع ملا۔ میدان فردوسی میں عظیم فارسی شاعر فردوس کا ایک مجسمہ بھی موجود ہے قریب ہی تہران کا بازار بزرگ ہے جو تہران کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے۔ بازار بزرگ کے بارے میں صحافیوں کو ہمارے گائیڈ نے بتایا کہ یہ قدیم ترین تجارتی مرکز ہے۔ بازار بزرگ کے تاجروں نے 1979ء میں ایران میں امام خمینی کی قیادت میں برپا کئے جانے والے انقلاب کی مالی مددکی تھی اس بازار میں اربوں ڈالر کا کاروبار ہوتا ہے۔ یہاں کے تاجر ایران کی سیاسی تحریکوں کے لئے بھی سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ پاکستانی صحافیوں کو منگل کے روز ایران کی سب سے بڑی خبر رساں ایجنسی اسلامی ریپبلک نیوز ایجنسی یعنی ’’ارنا‘‘ کے صدر دفتر کا دورہ کرنے کا بھی موقع ملا۔ ارنا کا بیورو اسلام آباد میں بھی موجود ہے۔ یہ خبر رساں ایجنسی شاہ ایران کے دور میں انقلاب ایران سے پہلے ’’پارس‘‘ کے نام سے جانی جاتی تھی۔ اس ایجنسی کے پچاس ملکوں میں نمائندے موجود ہیں۔ ’’ارنا‘‘ اردو سمیت دنیا کی نو بڑی زبانوں میں خبریں فراہم کرتی ہے۔ ’’ارنا‘‘ کے منیجنگ ڈائریکٹر سید ضیاع ہاشمی نے پاکستانی صحافیوں کو اپنی نیوز ایجنسی کے بارے میں ایک تفصیلی بریفنگ دی۔ ضیاء ہاشمی نے بتایا کہ ارنا اور پاکستان کی خبر رساں ایجنسی اے پی پی میں تعاون کا سمجھوتہ ہو چکا ہے اگرچہ اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کا بیورو تہران میں کھولنے کا بھی ایک ایم او یو کچھ عرصہ پہلے دونوں ملکوں میں ہو چکا ہے۔ اس پر عملدرآمد ہونا باقی ہے۔ ارنا کے ایم ڈی اے نے پاکستانی صحافیوں کو بتایا کہ ارنا پاکستان کے بارے میں خبروں پر بھی توجہ دیتی ہے لیکن چونکہ اس وقت مشرقی وسطیٰ میں اور اسلامی دنیا میں شورش برپا ہے اس لئے ’’ارنا‘‘ کی زیادہ توجہ اسلامی دنیا کے معاملات پر ہے۔ ارنا کے سربراہ نے بتایا کہ ہماری خبر رساں ایجنسی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں بھی خبروں کو نمایاں حیثیت دیتی ہے۔ ایم ڈی نے یہ بھی بتایاکہ ان کی خواہش ہے کہ ’’ارنا‘‘ کے دفتر پشاور‘ کوئٹہ اور کراچی میں بھی قائم کئے جائیں۔ پاکستان اور ایران پڑوسی ممالک ہیں ان کی تاریخی ثقافت مشترکہ ہے اور لوگوں کے درمیان رشتے بھی بہت پرانے ہیں۔ ان رشتوں کو مزید مستحکم بنانے کے لئے پاکستان اور ایران کا میڈیا بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ جب ارنا کے سربراہ سید ضیاء ہاشمی پاکستانی صحافیوں کو اپنے دفتر میں بریفنگ دے رہے تھے تو اس وقت پاکستان میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی تصویر ایرانی ٹی وی پر چل رہی تھی۔ ارنا کے سربراہ نے اس تصویر کی طرف پاکستانی صحافیوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ ایران پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ ہمارے وزیر خارجہ کا پاکستان کا موجودہ دورہ طویل ترین ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران پاکستان کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ دونوں ملکوں کو اپنی تجارت کو بڑھانا چاہئے۔ ہمارے ہاں ترقی کرنے کی جو عظیم صلاحیت موجود ہے اس سے استفادہ کرنا چاہئے۔ اختلافات کو ختم کرنے اور تعاون کو مستحکم کرنے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔