پاکستان اور روس کا افغانستان میں امریکہ کی موجودگی پر اظہار تشو یش

15 مارچ 2018

اسلام آباد(سہیل عبدالناصر)پاکستان اور روس سمیت خطہ کے ملکوں میں یہ تشویش گہری ہوتی جا رہی ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی توانائی، تجارت اور علاقائی روابط کی راہ میں سب سے بڑے رکاوٹ ہے اور داعش کے فروغ سمیت سلامتی کے نئے خطرات پیدا کرنے کی موجب ہے۔ مستند ذرائع کے مطابق پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے اعلیٰ سطح کے روسی وفد نے بدھ کے روز مشیر قومی سلامتی لیفٹننٹ جنرل(ر) ناصر خان جنجوعہ کے ساتھ بات چیت میں اپنے اندیشوں کا محتاط انداز اظہار کیا اور اسی حوالہ سے خطہ میں سلامتی کی مجموعی صورتحال، چیلنجوں اور ان کے تدارک پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ خیال رہے کہ تین روز پہلے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے دورہ پاکستان کے موقع زیادہ کھلے انداز میں ان خطرات کا اظہار کیا اور یہ تک کہا کہ داعش کے جنگجوئوں کو امریکی ہیلی کاپٹروں میں مختلف مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے۔روس کے ڈپٹی سیکرٹری برائے سیکورٹی کونسل ایم ایم پوپوف اور کونسل کے اسسٹنٹ سیکرٹری اے این وینیڈکٹوف نے گزشتہ روز مشیر سلامتی ناصر خان جنجوعہ سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر ہونے والی بات چیت میں دو طرفہ تعلقات، سلامتی، دفاع، تربیت اور متعلقہ شعبوں میں تعاون اور بطور خاص خطہ کی افغانستان کے حوالہ سے علاقہ میں سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیالات کیا گیا، خطرات کی نشاندہی کی گئی اور تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق روسی وفد کو افغانستان میں داعش کے پھلنے پھولنے، منشیات کی پیداوار اور سمگلنگ میں اضافے اور شدت پسندی کے فروغ پر بطور خاص تشویش تھی اور پاکستان بھی روس کی اس تشویش میں شریک ہے۔ دونوں ملکوں کو اس بات پر بھی پریشانی تھی کہ افغانستان میں بدامنی ختم ہونے کے کوئی امکانات نہیں دکھائی دے رہے اور افغان مسلہ کے سیاسی حل پر توجہ نہیں دی جا رہی جس کے باعث جنوبی ایشیاء سے وسط ایشیائ، کیسپئین اور بالٹک خطہ تک تعاون کے تمام تر امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔روسی وفد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ دفاع، سلامتی ، انٹیلیجنس ،توانائی اور تربیت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا متمنی ہے۔ مشیر سلامتی نے پاکستان کے نکتہ نظر سے طاقت کے عالمی و علاقائی رحجانات، شدت پسندی اور دہشت گردی کے خطرات، انسداد دہشت گردی میں پاکستان کی مہارت و کامیابیوں اور پاکستان کی مشرقی و مغربی سرحدوںپر سلامتی کی صورتحال سے انہیں آگاہ کیا۔