وفاقی حکومت بجٹ کیسا تھ معاشی پالیسی فریم ورک بھی پیش کریگی

15 مارچ 2018

اسلام آباد (عترت جعفری) وفاقی حکومت بجٹ کے ساتھ معاشی پالیسی فریم ورک بھی پیش کرے گی تاہم اس پر عملدرآمد آئندہ منتخب حکومت پر چھوڑ دیا جائیگا۔ آئندہ بجٹ کے ترقیاتی پروگرام میں نئی سکیموں کی شمولیت بھی انتہائی محدود رکھی جائے گی جبکہ جاری ترقیاتی منصوبوں کے لئے وسائل مختص ہوں گے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ آئندہ بجٹ میں ود ہولڈنگ ٹیکسوں کی تعداد میں کمی کی جائے گی۔ ایف بی آر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر ود ہولڈنگ ٹیکس سے ریونیو کا تجزیہ کرے اور ایسے ود ہولڈنگ ٹیکس جن سے ریونیو تو خاص نہیں ملتا تاہم ان کے باعث مسائل بڑھے ہیں کہ ختم کرنے کی تجویز دی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ بجٹ میں برآمدات میں اضافہ کے لئے جو سکیمیں دی گئی تھیں ان کی معیاد میں توسیع نہیں کی جائے گی جبکہ خصوصی طور پر انکم ٹیکس کے نرخوں میں کمی کی جائے گی۔ بجٹ کی تیاری آخری مرحلہ میں داخل ہو گئی ہے اور مختلف سٹیک ہولڈرز کی طرف سے ملنے والی تجاویز کے تجزیہ کو مکمل کیا جا رہا ہے۔ بینکوں کی ٹرانزیکشن پر لگے ود ہولڈنگ ٹیکس کا جائزہ بھی لیا جا ر