مقبوضہ کشمیر : شہادتوں پر تیسرے روز بھی ہڑتال ، پاکستان کے حق میں نعرے ، طلبا کیخلاف مقدمہ

15 مارچ 2018

سرینگر (نوائے وقت رپورٹ + نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے ہاکورہ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں تین نوجوانوں کی شہادت پر تیسرے روز بھی ہڑتال کالجوں میں طلبہ کا احتجاج،کئی مقامات پر جھڑپیں، متعدد افراد زخمی، شہید اویس شفیع اور عیسیٰ فاضلی کی درسگاہ بابا غلام بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں بھی طلبہ کا احتجاج اور کلاسوں کا بائیکاٹ، امتحانات ملتوی جبکہ راجوری یونیورسٹی میں آزادی اور پاکستان کے حق میں نعرہ بازی کرنے پر بھارتی حکام نے زیرتعلیم کشمیری طلبا کیخلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ہاکورہ اننت ناگ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں3 نوجوانوں کی شہادت پر وادی میں تیسرے روز بھی ہڑتال رہی۔اس دوران فورسز اور مظاہرین کے درمیان سرینگر کے بژھ پورہ،گاندی کالج،اسلامیہ کالج کے علاوہ قمرواری میںسنگباری کے واقعات رونما ہوئے،جبکہ گاندربل میں طلباء نے احتجاجی ریلی برآمد کی اور کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔ شہید اویس شفیع اور عیسیٰ فاضلی کی درسگاہ بابا غلام بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں بھی طلباء نے احتجاج اور کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔جس کے باعث امتحانات ملتوی کر دئیے گئے۔ اسلامیہ کالج میں بھی طلباء نے احتجاج کیا اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے گئے۔ اس دوران فورسز پر معمولی سنگباری بھی کی گئی۔ درجنوں گاڑیوں کے شیشے بھی چکنا چور ہوگئے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج گاندربل کے احاطے میں طالب علموں نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے آزادی کے حق میں زبردست نعرے بازی کی۔ دوسری طرف ماس موومنٹ کی سربراہ فریدہ بہن جی نے عیسیٰ فاضلی اور اویس سمیت تینوں شہید نوجوانوں کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے نوجوان بے مثال قربانیاں پیش کر رہے ہیں اور ان قربانیوںکا پاس رکھنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ راجوری میں بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء نے بھارتی فورسز کے ہاتھوں حال ہی میںشہید کشمیری نوجوانوںکی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی تھی اوراس دوران ’’ہم کیا چاہتے آزادی‘‘ اور ’’پاکستان زندہ باد‘‘کے نعرے لگائے تھے۔ طلباء کے ایک گروپ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس(گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ این آئی اے کی جانب سے ریاست کے جیلوں میں قیدیوں کو خوف وہراس اور تنگ طلب کیا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ایم ایل اے لنگیٹ انجینئر رشید نے این سی اور پی ڈی پی پر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ جماعتیں جموں کشمیر کو سیاسی مسئلہ مانتی ہیں تو انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ جموں کشمیر تب تک ہی سیاسی مسئلہ ہے جب تک اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں اور جس دن بھی اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے کشمیری انحراف کریں گے اس دن جموں کشمیر کے تنازعہ کی سیاسی حیثیت بلکہ اس کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔ مقبوضہ کشمیر اور بھارتی پنجاب میں مظالم پر جنوبی افریقہ میں بھارتی ہائی کمشن کے سامنے احتجاج کیا۔ مظاہرے میں پاکستانی، کشمیری، سکھ اور مقامی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی مظاہرین کے بھارتی مظالم کیخلاف اور کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے گئے بھارتی ہائی کمشن کے حکام نے احتجاجی یادداشت وصول کرنے سے انکار کر دیا۔