انسداد خسرہ انجکشن سے بچوں کی حالت بگڑی‘ انسانی غفلت سے ہلاکتیں ہوئیں: رپورٹ

15 مارچ 2018

نوابشاہ (صباح نیوز) محکمہ صحت کی تحقیقاتی کمیٹی نے شہید بینظیر آباد میں بچوں کی ہلاکت پر تحقیقات مکمل کرلی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کی حالت انسداد خسرہ کا ٹیکہ لگانے سے بگڑی، انسانی غفلت اور ہسپتال کا عملہ بھی بچوں میں ٹیکوں سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے ناواقف نکلا اور بچے دم توڑ گئے۔ شہید بینظیرآباد میں انسداد خسرہ مہم کے دوران 3بچوں کی ہلاکت پر قائم تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی نے متاثرہ بچوں کے والدین، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر حکام سے تحقیقات کیںجس کے مطابق بچوں کی حالت انسداد خسرہ کا ٹیکہ لگانے سے بگڑی۔ٹیکہ لگانے کے کچھ گھنٹوں بعد بچے بخار، ڈائریا اور الٹیوں میں مبتلا ہوئے۔ متعلقہ ایل ایچ ڈبلیو نے پہلے سے بھرے ٹیکہ اپنے بیگ سے نکال کر بچوں کو لگائے جبکہ خسرہ کے ٹیکے لگانے کا اندراج بھی موجود نہیں۔ متعلقہ ڈی ایچ او کے دفتر میں حفاظتی ٹیکوں کا مائیکرو پلان اور گاڑیوں کا ریکارڈ بھی تحقیقات میں سامنے نہیں آیا۔ تحقیقات کے مطابق صحت کے عملہ کو ٹیکوں کا درجہ حرارت برقرار رکھنے کا علم بھی نہیں تھا۔بچوں کو ٹیکہ لگانے والی ایل ایچ ڈبلیو تحسین مفرور ہے۔ بچوں کی اموات انسانی غفلت سے ہوئی ،اسپتال میں موجود عملہ بھی بچوں میں ٹیکوں سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو قابو پانے میں ناتجربہ کار ثابت ہوا اور بچے دم توڑ گئے۔