خاندان کے لوگ شام میں محصور، پاکستانی حکومت مدد کرے : محمد اکرم کی اپیل

15 مارچ 2018

اسلام آباد (بی بی سی ڈاٹ کام) محمد اکرم 1974ء میں پہلی مرتبہ شام کے دارالحکومت دمشق گئے۔ 1980ء میں پاکستان لوٹنے کے بعد آٹھ سال وہ یہاں رہے۔ حال ہی میں پاکستان لوٹنے والے محمد اکرم نے ایک شادی پاکستان میں کی اور ایک شام میں۔ ان کی شامی اہلیہ کا نام ربع تھا۔ ان سے محمد اکرم کے چھ بچے تھے۔ تین بیٹے اور تین بیٹیاں۔ ان میں سب سے بڑا بیٹا ایمم تھا جس کی کنیت سے محمد اکرم کو مقامی طور پر پہچانا جاتا تھا۔ وہ بتاتے ہیں ’’ایک دن وہ بازار گیا، پتہ نہیں وہاں کیا ہوا؟ کوئی فائرنگ ہوئی یا کچھ اور لیکن میرے سامنے اس کی لاش آئی‘‘ انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں بتایا ’’اس شام ایمبولینس آئی، وہ میرا نام پوچھ رہے تھے۔ میں نے سوچا کسی اور کے گھر آئی ہو گی لیکن اس دن بدنصیب باپ میں تھا۔ میں اس کی لاش دیکھ کر برداشت نہیں کر سکا‘‘ محمد اکرم کے دوسرے بیٹے کا نام احمد ہے اس کی اہلیہ بھی شامی خاتون ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں تین بیٹے اور ایک بیٹی جبکہ تیسرے بیٹے محمود کی بیوی بھی شامی ہیں اور ان کی دو بیٹیاں ہیں۔ محمد اکرم کی تینوں بیٹیاں یاسمین، صائمہ اور عالی تینوں وہیں مقامی لوگوں کے ساتھ بیاہی گئی ہیں۔ وہ بھی اپنے خاندانوں کے ہمراہ غوطہ میں محصور ہیں۔ محمد اکرم کا کہنا تھا کہ ان کے بچے اور خاندان مصیبت میں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح حکومت پاکستان ان کی مدد کرے اور وہ انہیں کم از کم غوطہ سے نکال کر دمشق کے کسی محفوظ مقام تک پہنچا دیں۔ یا اگر حکومت چاہے تو انہیں شام سے باہر کسی محفوظ ملک تک بھجوا دے۔ جب تک بچے بھی پاکستان نہ آئیں، سکون نہیں ملے گا۔