مری کا حسن تباہ نہیں ہونے دینگے‘ غیر قانونی تعمیرات گرادیں: سپریم کورٹ

15 مارچ 2018

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ میں ملکہ کوہسار مری میں غیر قانونی تعمیرات، آلودگی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے مری میں غیرقانونی تعمیرات گرانے کے حوالے سے متعلقہ حکام کو ہدایت دیتے ہوئے قرار دیا کہ معاملے پر جج کی نگرانی میں کمشن بھی تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ چیف جسٹس کہا کہ مری کے پہاڑ ملکی اثاثہ اور حسن ہیں، انہیں تباہ نہیں ہونے دیں گے، چاہتے ہیں جو تعمیرات قانون کے دائرے میں آتی ہیں وہ ٹھیک ہے، غیرقانونی تعمیرات گرا دیں، مری کی حسین اور خوبصورت جگہ کو تباہ نہیں ہونے دیں گے، معاملے کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ یا سیشن کورٹ کے ریٹائرڈ جج پر مشتمل کمیشن بنایا جا سکتا ہے، کمیشن رپورٹ پر اعتراضات ہم سن لیں گے۔ مری میں غیرقانونی تعمیرات سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی تو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مری میں تعمیرات کے بائی لاز بنے ہیں جو تعمیرات ہو نگی ان بائی لاز کے مطابق ہونگی، اپنی نگرانی میں غیر قانونی تعمیرات گرا دیتے ہیں جو تعمیرات قانون کے دائرے میں آسکتی ہیں لے آئیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اس سیزن میں جو تعمیرات قانون کے دائرے میں نہیں آسکتی انہیں نہیں چلنے دیں گے، چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ بتائیں کس معتبر شخصیت کو کمیشن مقررکردوں؟، اس پر بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ جسٹس مولوی انوار الحق کو کمیشن مقررکردیں، مری بلڈنگ کے وکیل نے کہا کہ عدالت جس شخص کو مرضی کمیشن مقرر کرے، سماعت کے موقع پر مولوی انوار الحق نے کمیشن کا سربراہ بننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں کمیشن کا سربراہ نہیں بن سکتا، میری اپنی بھی مری میں عمارت ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنی عمارت گرادیں، اچھے کام کی ابتدا گھر سے کرنی پڑتی ہے، چیف جسٹس نے مولوی انوار الحق سے کہا کہ آپ نہیں کرنا چاہتے تو اپنے جیسا بندہ دے دیں، کسی پہاڑ پر غیرقانونی چیز قبول نہیں ہے، جہاں ٹی ایم او کی زیادتی ہوگی اسے بھی دیکھیں گے، شہریوں کو مایوس نہیں کریں گے، یہ ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں، خوبصورت جگہ کو تباہ نہیں ہونے دیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ کمیشن کیلئے کون مناسب ہو سکتا ہے سو چ لیتے ہیں، ہائی کورٹ یا سیشن جج ریٹائرڈ کو کمیشن بنایا جا سکتا ہے، بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی ۔