سینیٹ کے بعد آرمی چیف کا میڈیا سے آ منا سامنا

15 مارچ 2018

اٹھائیس جولائی کے فیصلے کی گھڑیاں قریب آ رہی تھیں کہ آئی ایس پی آر نے دہشت گردوں کے خلاف ایک فوجی آپریشن پر بریفنگ کا اہتمام کیا۔ جنرل آصف غفور کی ساری گفتگو کا محور دہشت گردوں کے خلا ف آپریشن ہی رہا، مختلف نقشے ا ور چارٹس بھی دکھائے گئے مگر جونہی سوالات شروع ہوئے توپہلا ہی سوال یہ آیا کہ سپریم کورٹ کے کسی فیصلے پر فوج کا ایکشن کیا ہو گا۔ جنرل صاحب نے نپے تلے لہجے میں جواب دیا کہ فوج آئین اور قانون کے تحت کارروائی کرنے کی پابند ہے۔ ان الفاظ کا ترجمہ کرنے کے لئے کسی ڈکشنری کی ضرورت نہیں تھی۔
اگر یہی بات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی دہرا دیں اور یہ کہہ دیں کہ وہ آئین اور قانون کی رو سے سپریم کورٹ کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو اس پر کسی کو اچنبھا نہیں ہونا چاہئے۔ کہ جنرل آصف غفور نے جب یہ کہا تھا تو جی ایچ کیو اور اپنے چیف کی ہی ترجمانی کی تھی۔
فوج سے اگر یہ پوچھا جائے کہ اگر اسے موجودہ مسائل پر کوئی فیصلہ کرنا پڑے تو۔۔۔۔ اس کا جواب لازمی طور پر یہی ہو گا کہ فوج کسی مسئلے کو لٹکانے کے حق میں نہیں اور اگر اسے فیصلہ کرنا ہوتا تو کب کا کر چکی ہوتی۔ حقائق کے تناظر میں دیکھ لیں کہ فوجی عدالتوںنے دہشت گردوں کے خلاف فیصلے کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کی اور ان فیصلوں پر آرمی چیف نے بھی شتابی سے دستخط ثبت کر دیئے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے فیصلوں کی فائلیں وزارت داخلہ اور ایوان صدر کی میزوں پر گھومتی رہتی ہیں، فوج اور سول کے فیصلوں کے انداز اور ان کی رفتار میں نمایاں فرق سے کون انکار کر سکتا ہے۔
فیض آباد دھرنے کے بعد جب یہ بحث چلی کہ اسے فوج کی حمائت حاصل تھی تو آرمی چیف نے پیش کش کی کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش کیا جائے ،وہ استعفیٰ دینے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کریں گے ۔
مجھے یقین ہے کہ یہ سلسلہ کبھی رکنے والا نہیں، ابھی کل ہی ن لیگ کے اجلاس میں کہا گیا کہ بنی گالہ اور زرداری ہائوس دونوں چابی والے کھلونے ہیں۔ حاصل بزنجو نے تو سینیٹ اجلاس میں انٹیلی جنس اداروں پر کھل کر الزامات عائد کئے۔
مجھے کبھی کبھار گھر بیٹھے یہ افواہ سننے کو ملتی ہے کہ کسی اخبار کے دفتر میں آخری کاپی تیار ہو جاتی ہے تو کچھ نامعلوم لوگ آ کر اس کی اکھاڑ پچھاڑ شروع کر دیتے ہیں۔
میںنے سی پی این ای کے پچھلے دو سال سے صدر ضیا شاہد سے پوچھا کہ کیا انہیں کبھی کسی اخباری ادارے سے یہ شکائت موصول ہوئی ہے کہ ان پر خبروں کی اشاعت یا عدم اشاعت کے سلسلے میں کسی کی جانب سے کوئی دبائو ہے تو انہوں نے جواب میں کہا کہ مجھے دو سال میں ایسی ایک بھی شکائت نہیں ملی۔ یہی سوال میں ضیا شاہد سے قبل دو سال کے لئے سی پی این ای کے صدر رہنے والے مجیب شامی سے پوچھنا چاہتا تھا، میں نے یہ کالم لکھنے سے قبل انہیں کئی فون کئے مگر ان کا ایس ایم ایس آیا کہ وہ فون نہیں سن سکتے، اس کے بعد بھی انہوں نے کال بیک نہیں کیا، اس لئے مجھے ان کے۔۔ نقطہ نظر۔۔ سے آگاہی نہیں ہو سکی۔
منگل کی شام مجیب شامی نے دنیا نیوز پر اپنے ٹی وی پروگرام میں اشعار کی زبانی رونا دھونا کیا کہ انہیں آرمی چیف کی بریفنگ میں نہیں بلایا گیا۔
کسی محفل میں جانا کسی صحافی کا استحقاق نہیں۔ اور نہ جانا باعث ذلت بھی نہیں۔
مجھے بھی یاد آیا کہ بلاوا تو مجھے بھی نہیں آیا جبکہ میں نے جب لکھنا سیکھا تھا تو شاعر کی طرح مجھ پر یہ انعام نہیں ہو ا کہ پہلے۔۔ اس کا نام لکھا بلکہ میں نے اس پر فدا ہونے والے شہیدوں اور مجاہدوں کا تذکرہ کیا تھا، یہ پینسٹھ کی بات ہے اور میں ایف اے کا طالب علم تھا۔ جنگ ستمبر چھڑی تو میں نے اپنی زندگی کی جو پہلی تحریر لکھی، وہ ایک نظم تھی جس کا پہلا مصرع تھا: اے مرے زندہ مجاہد اے مرے زندہ شہید۔ اس نظم کو بین الکلیاتی مشاعروںمیں انعامات ملتے رہے اور ابھی تین سال قبل ۔۔ ضرب عضب اور اے وطن کے سجیلے جوانو!۔۔۔ کے نام سے دو کتابیں لکھیں، شائع کیں اور ان کی تقاریب بھی منعقد کیں مگر اس پورے عرصے کے دوران میرا دل کبھی نہیں للچایا کہ کسی آرمی چیف سے ملوں، ہاں میں شہیدوں کے گھر گیا، میں اس بچے سے ملا جس نے کہا تھا کہ بڑا ہو کر شہید بنوں گا، میں نے اکہتر کی جنگ چھڑنے سے چند روز پیشتر آئی ایس پی آر لاہور کے کیپٹن ارشد کو تحریری درخواست کی تھی کہ جنگ چھڑنے والی ہے، مجھے کسی فوجی یونٹ کے ساتھ وابستہ کر دیا جائے تاکہ میں چشم دید واقعات لکھ سکوں۔ اس وقت تو نہیں مگر جنگ بندی کے بعد مجھے جنرل مجید ملک کے گیارہویں ڈویژن کی کمان میں قصر ہند فتح کرنے والی اکتالیس بلوچ اور تھری پنجاب کے ساتھ ایک ماہ گزارنے کی اجازت مل گئی۔ یہ میری صحافت کے خوش بخت اور زریں لمحات تھے۔ فوج سے میری رفاقت کو باون برس گزر گئے۔
موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو نجانے کیوں شوق لاحق ہوا کہ انہوںنے اپنے سامنے ڈھیر سارے میڈیا پرسنز کو بٹھا لیا۔
جنرل باجوہ اس سے پہلے سینیٹ کی کمیٹی میں پیش ہوئے تھے اور میں نے اس کی روداد تین کالموں میں تحریر کی تھی حالانکہ میں وہاں موجود نہیں تھا اور نہ ہو سکتا تھا کہ میں سینیٹر نہیں تھا۔ میں نے اپنے پہلے ہی کالم میں لکھا تھا کہ جنرل باجوہ سینیٹ کمیٹی میں یہ جانتے ہوئے پیش ہوئے کہ وہاں ان کی قطعی عزت افزائی نہیں ہو گی۔ یہ کمال فوج کا ہی ہے کہ وہ ہر ایک کی سنتی ہے مگر کسی کو سناتی نہیں، ورنہ ہمارے سیاستدان صرف اپنے درباریوں اور حاشیہ نشینوں کی سنتے ہیں،کیا مجال وہ بھولے سے بھی اپنے کسی نظریاتی اور سیاسی مخالف صحافی کو اپنی محفل میں مدعو کریں، اسی لئے وہاں کوئی پی ٹی وی کا چیئرمین ہوتا ہے، کوئی ریلوے کا پی آر او اور کوئی پی ایچ اے کا سربراہ، کوئی پی ٹی وی کا اینکر۔ ویسے ان لوگوں نے احتیاط کے طور پر صحافت کا لبادہ بھی اوڑھا ہوتا ہے۔
جنرل باجوہ کے ساتھ جو کچھ سینیٹ کے اجلاس میں ہوا، ویسا ہی اس محفل میںہوا جو خود انہوںنے سجائی تھی، مگر اس محفل کا حسن یہ تھا کہ میزبان نے ثابت کیا تھا کہ وہ پاک فوج کے سپاہ سالار ہیں، وہ ہر پاکستانی کے لئے سلامتی کی جنگ لڑنے کے ذمے دار ہیں، اس لئے اگر انہیں کسی سے کوئی کڑوی کسیلی سننے کو مل بھی جائے تواس پر برا نہیں مناتے ۔
ضرب مومن دور جیسا فوج اور میڈیا کابڑا اور قابل ذکر انٹر ایکشن کبھی نہیں ہوا۔ جنرل اسلم بیگ نے فوج کے دروازے میڈیا پر کھول دیئے تھے۔ پاکستان ا ور دنیا بھر کے چیدہ ایڈیٹرز ایک ہفتے کے لئے ضرب مومن کا مشاہدہ کرتے رہے۔ بعد میں فوج نے دفاعی رپورٹنگ کی ٹریننگ کے لئے بیسیوں صحافیوں کو ضرب عضب کا حصہ بنایا۔ ایک بار تو جنرل بیگ نے ڈیڑھ سو سے زائد سینیئر صحافیوں کو پنڈی بھی مدعو کیا مگر اگلے روز ان کو دو گروپوں میں تقسیم کر دیا گیا، ایک گروپ واہ آرڈی ننس فیکٹری ڈسپیچ کر دیا گیا، دوسرا کامرہ کمپلیکس دیکھنے چلا گیا اور پیچھے سے جنرل بیگ نے فوج کے جونیئر افسروں کو جی ایچ کیو ہال میں اکٹھے کیا اور اپنا مشہور زمانہ خطبہ ارشاد فرمایا جو عراق جنگ کے سلسلے میں بہت بڑا بلنڈر ثابت ہوا۔ اسوقت کی نواز شریف حکومت عراق کے کویت پر قبضے کے خلاف تھی مگر جنرل بیگ نے نئی کربلا کا رونا رویا اور عراق کے لئے عوامی ہمدردی کی لہر پیدا کرنے کی کوشش کی۔
آرمی سربراہوں سے ملاقاتوں پر پوری ایک کتاب ایک دن میں لکھی جا سکتی ہے مگر میں ایک واقعے پر اکتفا کروں گا۔ یہ ضرب مومن کی تکمیل پر ایک بریفنگ تھی جو گوجرانوالہ کینٹ میں منعقد کی گئی۔ اس میں گنتی کے صحافی شامل تھے، لاہور سے کرنل سفیر تارڑ ہم کچھ صحافیوں کو لے کر وہاںپہنچے، اس وقت تک امریکہ نے عراق پر یلغار شروع کر دی تھی۔ بریفنگ سے قبل ناشتے کی میز پر صحافیوںنے جنرل اسلم بیگ سے عراق امریکہ جنگ کے امکانی نتیجے پر بات کی تو جنرل بیگ صاحب کا کہنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ گیارہ بجے تک امریکی فوج عراقیوں کے نرغے میں آ کر دم توڑ دے گی اور سرنڈر پر مجبور ہو جائے گی مگر ہماری بریفنگ چلتی رہی اور شام کے چار بج گئے، پھر عراق امریکہ جنگ پر جنرل بیگ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
سینیٹ کے اجلاس میں آرمی چیف کے ساتھ سوال جواب کی محفل کو آف دی ریکارڈ کہا گیا تھا مگر سب کچھ چھپا اور سینیٹ چیئرمین یہ کہتے کہتے اپنے منصب ہی سے رخصت ہو گئے کہ وہ اس افشا کی تحقیق کریں گے مگر وہ سب کچھ شائع ہوا جس سے آرمی چیف کی تحقیر مقصود تھی اور سینیٹ نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔
مجھے افسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج اور اسکے سربراہ کو برا بھلا کہنے والوںنے کبھی بھارتی یا امریکی فوج اور ان کے سربراہوں کو برا بھلا نہیں کہا، میرا سوال ہے کیا کہ یہ سب پاکستان کا بھلا ہی بھلاسوچتے ہیں۔