رائے ونڈ: پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملہ‘ 5 اہلکاروں سمیت 9 شہید

15 مارچ 2018

لاہور/ رائے ونڈ (نامہ نگار+خصوصی نامہ نگار+نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) رائے ونڈ میں پولیس چیک پوسٹ کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے میں 5 پولیس اہلکار اور 4 شہری شہید جبکہ 30 زخمی ہو گئے، بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے، ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف کے مطابق بزدلانہ کارروائی میں پولیس کو ٹارگٹ کیا گیا، اطلاع ملتے ہی پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، ریسکیو 1122، بم ڈسپوزل سکواڈ سمیت دیگر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں زخمیوں کو شریف میڈیکل سٹی کمپلیکس اور رائے ونڈ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کیا گیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو سیل کر کے قریبی آبادیوں میں سرچ آپریشن بھی کیا ، وزیر اعلی شہباز شریف نے آئی جی پولیس سے فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی اور دھماکے کی مذمت کی ‘ صدرممنون ، وزیراعظم شاہد خاقان، سابق وزیر اعظم نواز شریف، وزیر داخلہ احسن اقبال، عمران خان، شجاعت حسین، آصف زرداری، بلاول بھٹو، سراج الحق ، طاہرالقادری سمیت دیگر رہنمائوں نے دھماکے سے ہونے والے نقصان پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ رائیونڈ اجتماع گاہ کی طرف جانے والے راستے پر قائم نثار چیک پوسٹ پر اے ایس پی، دو ایس ایچ اوز سمیت اہلکار موجود تھے کہ اچانک زوردار دھماکہ ہو گیا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور افراتفری پھیل گئی۔فارنزک ماہرین بھی موقع پر پہنچ گئے۔ واقعہ کے بعد صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر، ڈپٹی کمشنر سمیر احمد سید بھی ہسپتال پہنچ گئے۔ سی سی پی او لاہور کے مطابق 9 پولیس اہلکاروں سمیت 30 افراد زخمی ہوئے۔ شہدا میں2 سب انسپکٹر محمد اسلم، سلیم کانسٹیبل تنویر، احمد اور سعید شامل ہیں۔ اے ایس پی اور ایس ایچ او سمیت 9 اہلکار زخمی ہوئے، زخمیوں میں سب انسپکٹر منظور، کانسٹیبل حامد، نعیم، فاروق، کرامت، اکرم، سعید، اسرار، جاوید شامل ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز حیدر اشرف کے مطابق دھماکہ خودکش تھا۔ اے ایس پی رائے ونڈ زبیر نذیر خیریت سے ہیں۔ رائے ونڈ میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ، پولیس اہلکار اپنے ساتھیوں کی ہلاکت پر روتے رہے ،زور دار دھمکاکے سے ارد گرد کی عارضی دکانوں میں آگ بھڑک اٹھی ،پنڈال میں بھگدڑ مچ گئی ،پنڈال کو چاروں جانب سے سیل کردیا گیا نماز عشاء کی ادائیگی سے چند منٹ قبل دھماکے کے بعد افراتفری پھیل گئی ، 6روزہ جوڑ (منی اجتماع)میں عشاء کی اذان کے بعد نماز کی تیاری کا عمل جاری تھا کہ اچانک زور دار دھماکہ ہوا آوازرائے ونڈ شہر تک سنی گئی ،عینی شاہدین کے مطابق ہم وضو کرنے میں مصروف تھے کہ اچانک زور دار دھماکہ سے آگ کے شعلے بلند ہوئے جب ہم ادھر پہنچے ہیں تو پولیس اہلکاروں کی نعشیں پڑی ہوئی دیکھی دھماکے میں شہید ہونیوالے بنوں کے رہائشی بس کنڈکٹر محمد آصف کے بڑے بھائی نے بتایا کہ ہم جماعت کیساتھ آئے ہیں میرا بھائی گاڑی پارک کرکے واپس آرہا تھا کہ دھماکے کی زد میں آگیا ۔ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث تنویر نامی پولیس اہلکار سول ہسپتال میں دم توڑ گیا جبکہ متعدد زخمیوںکو لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں ریفر کردیا گیا۔ اجتماع گاہ کو گھیرے میں لے لیا گیا جبکہ آنیوالے مندوبین کو پنڈال جانے سے روک دیا گیا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پنڈال میں 4لاکھ افراد موجود تھے جو نوافل کی ادائیگی میں مصروف تھے۔ بی بی سی کے مطابق حکومت پنجاب کے ٹوئٹر ہینڈل سے کی گئی ٹویٹ کے مطابق تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال رائیونڈ میں کم ازکم چھنعشیں اور 14 زخمی لائے گئے ہیں۔ حملے کا نشانہ بننے والی چیک پوسٹ مذہبی اجتماع کے باہر موجود تھی۔ مذہبی اجتماع کے لیے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا اور حکام کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ڈاکٹرحیدر اشرف نے بتایا ہے کہ دھماکے سے پہلے حملہ آور نے اجتماع میں جانے کی کوشش کی۔چیک پوسٹ پر اہلکاروں نے روکا تو خود کو اڑا لیا۔ اگر خدانخواستہ حملہ آور اجتماع میں داخل ہو جاتا تو نقصان بہت زیادہ ہونا تھا۔ حملہ آور کے اعضا اور دیگر شواہد اکٹھے کرکے فرانزک کے لیے بھجوادئیے ہیں۔حملہ آور کیسے اورکس کے ساتھ آیا یہاں پہنچا ، اس کے بارے میں سیکورٹی اداروں کے ساتھ مل کر تحقیقات جاری ہیں۔ دھماکے کے بعد انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان زخمیوں کی عیادت کے لئے ہسپتال پہنچ گئے ۔ مزید برآں آئی جی پنجاب نے صوبے میںسکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں ۔ کہا گیا کہ صوبے بھر میں حساس تنصیبات ،تعلیمی اداروں،عبادت گاہوں اور مارکیٹوں کی سکیورٹی بڑھانے کے ساتھ ساتھ سرچ ، سویپ ، کومبنگ اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی لائی جائے۔جس کے بعد شہر بھر میں جگہ جگہ ناکے لگا کر گاڑیوں کی سخت چیکنگ کی جارہی ہے۔ نیٹ نیوز کے مطابق تحریک طالبان پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا۔