امیدواروں کی آزاد حیثیت میں کامیابی‘ نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی درخواست، الیکشن کمشن، وفاقی حکومت سے جواب طلب ، چیئرمین سینٹ کا انتخاب بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج

15 مارچ 2018

لاہور ، کوئٹہ (وقائع نگار خصوصی+ بیورو رپورٹ) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے مسلم لیگ (ن) کے پنجاب سے منتخب 11 سینیٹرز کی آزاد حیثیت میں کامیابی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دینے کے لئے دائر درخواست پر الیکشن کمشن، وفاقی حکومت اور11 منتخب سینیٹرز کو 2 اپریل کا نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر زرقا سہروردی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ن لیگی امیدواروں کو نوازشریف نے سینٹ کے ٹکٹ جاری کئے۔ نااہلی کے بعدنوازشریف کسی امیدوار کو پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کا آئینی اور قانونی استحقاق نہیں رکھتے تھے، الیکشن کمشن نے کسی قانونی جواز کے بغیر ن لیگی امیدواروں کو آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جو کہ آئین اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت اختیارات سے تجاوز کرنے پر الیکشن کمشن سے وضاحت طلب کرے۔ عدالت نے اسی نوعیت کی تمام درخواستیں یکجا کرنے کی ہدائت کر دی۔ دریں اثنا سینیٹر میر صادق سنجرانی کا بطور چیئرمین سینٹ انتخاب بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئینی طور پر صدر مملکت کی عمر 45برس ہوئی چائیے لیکن صادق سنجرانی کی عمر 45سال سے کم ہے، اسطرح وہ صدر مملکت کی غیر حاضری میں قائم مقام صدر کا حلف نہیں اٹھا سکیں گے۔ سماعت آج بلوچستان ہائیکورٹ کو ڈویژنل بنچ کریگا۔