قومی اسمبلی: وزراء غیر حاضر، اپوزیشن کا احتجاج، سپیکر نے جوائنٹ سیکرٹری آبی وسائل کو معطل کرنے کا حکم دیدیا

15 مارچ 2018

اسلام آباد (خصوصی نمائندہ+ نوائے وقت رپورٹ)قومی اسمبلی میں مشترکہ میری ٹائم تنظیم بل 2018ء قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا جسے مزید غور کے لئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے مشترکہ میری ٹائم تنظیم بل 2018ء پیش کیا، تحریک انصاف کی شیریں مزاری نے بل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس بل کی تشکیل میں عالمی اداروں کے قوانین کو نظر انداز کیا گیا ہے‘ نظرثانی کرکے پیش کیا جائے۔ خرم دستگیر نے کہا کہ بل کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پی اے سی کی ذیلی کمیٹی میں جب بلوچستان کے حکام آتے ہیں فشنگ کے حوالے سے جو بغیر لائسنس کے کام کر رہے ہیں ان کے حوالے سے بھی بل میں شق شامل ہونی چاہیے تاکہ میری ٹائم ایجنسیوں کو بھی کنٹرول کا اختیار ہونا چاہیے۔ خرم دستگیر خان نے کہا کہ بہتر فیصلہ سازی کے لئے میری ٹائم بل لایا گیا ہے۔ بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ اجلاس کے دور ان وزیر مملکت برائے مواصلات جنید انوار چوہدری نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ سال 2016-17ء میں ملک میں شاہرائوں پر حادثات میں 17 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوںنے بتایا کہ موٹروے پولیس نے شاہرائوں پر ٹریفک کی بحالی‘ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد اور حادثات کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کئے ہیں۔ اجلاس کے دور ان وفاقی بنک برائے کوآپریٹو کے قیام اور کوآپریٹو بنکنگ کے ضابطہ 1977ء کی منسوخی کا بل وفاقی بنک برائے کوآپریٹو کے قیام اور کوآپریٹو بنک کے ضابطہ (تنسیخی) بل 2017ء کی منظوری دے دی گئی۔ قومی اسمبلی نے وفاقی بنک برائے کوآپریٹو بنک کے قیام اور کوآپریٹو بنک کے ضابطہ (تنسیخی) بل 2017ء کی منظوری دے دی۔ اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی نے ہائوسنگ بلڈنگ فنانس کارپوریشن (تنسیخی) بل 2017ء قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں منظور کرلیا۔ دریں اثناء ترجمان وزارت دفاع نے کہا ہے کہ مشترکہ بحری تنظیم برائے اطلاعات قانون 2018 قومی اسمبلی سے منظور کیا گیا ہے ۔ پاک بحریہ کی 2012 میں شرو ع کی گئی کاوش پایہ تکمیل تک پہنچ گئی۔ قانون کی منظوری کے بعد مشترکہ بحری اطلاعات معاون مرکز قائم کیا جائے گا۔ مشترکہ بحری اطلاعات کا معاون مرکز پی این ایس قاسم، کراچی میں قائم ہوگا۔ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران دوسرے روز بھی وزراء اور سرکاری افسران کی عدم موجودگی پر اپوزیشن نے احتجاج کیا جبکہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزارت آبی وسائل کے سوالات کے دوران متعلقہ جوائنٹ سیکرٹری کی عدم حاضری کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں معطل کر کے نوٹیفکیشن سپیکر آفس میں جمع کرانے کی ہدایت کر دی جبکہ حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ سرکاری ملازمین کے بیرون ملک علاج کیلئے وزیراعظم اور میڈیکل کمیٹی کی منظوری لازمی ہوتی ہے، اراکین پارلیمنٹ کیلئے بیرون ملک علاج کی حد 30ہزار جبکہ بیورو کریسی کیلئے 15ہزار ڈالر ہے، نجی ٹور آپریٹرز کو حج کوٹہ الاٹ کرنے کی سعودی عرب کی جانب سے کوئی قدغن نہیں ہے یہ حکومت پاکستان کی صوابدید ہے رواں سال 67فیصد حج کوٹہ سرکاری جبکہ 33فیصد نجی شعبے کو دیا گیا ہے قومی اسمبلی کو بتایاگیا کہ بھارت کیساتھ مختلف ڈیموں کے ڈیزائن کے حوالے سے بات چیت کا آغاز جلد ہوگا۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر موجودہ دور حکومت میں ہی کام شروع کردیا جائے گا۔ وزیر آبی وسائل سید جاوید علی شاہ نے بتایا کہ بھارت کے ساتھ ڈیموں کے ڈیزائن کے حوالے سے بات چیت کا آغاز جلد ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ توقع ہے بات چیت سے اس مسئلے کا حل نکل آئیگا ٗ انہوں نے بتایا کہ نیشنل واٹر پالیسی مسودے پر عملدرآمد کی تجویز کردہ طریقہ کار کے مطابق 19 مختلف ادارے نگران ہوں گے۔ نفیسہ عنایت اللہ خان خٹک کے سوال کے جواب میں وزارت آبی وسائل کے اعلیٰ افسران کی عدم موجودگی پر سپیکر نے وزارت کے سیکشن آفیسر کو ہدایت کی کہ وہ جاکر جوائنٹ سیکرٹری‘ ایڈیشنل سیکرٹری یا سیکرٹری کو بلائیں۔ انہوں نے وزیر سے کہا کہ کیا جس آفیسر کی یہاں ذمہ داری تھی اس کو عدم موجودگی پر معطل کریں گے۔ اس پر جاوید علی شاہ نے کمٹمنٹ دی۔ سپیکر نے کہا کہ ان تینوں کو یہاں بلا کر بٹھائیں۔شیریں مزاری نے کہا کہ بیورو کریسی تعاون نہیں کر رہی۔ ہم نے خارجہ کمیٹی میں ایک سوال پوچھا تھا چار سال میں کمیٹی کا جواب نہیں ملا۔ سپیکر نے کہا کہ نام لکھ کر دیں کارروائی کریں گے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بتایا کہ حج 2018ء کی قرعہ اندازی پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ذریعے کی گئی ٗقرعہ اندازی صاف شفاف طریقے سے نیب‘ آئی بی کے نمائندوں کی موجودگی میں ہوئی ہے۔ کوئی حج کوٹہ نہیں ہے۔ سردار یوسف نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں حج سے متعلقہ کیس زیر سماعت ہیں۔ نجی شعبہ کو سعودی عرب کی جانب سے کوٹہ دینے کی کوئی ہدایات نہیں ہیں۔وزیر مملکت برائے پورٹ و شپنگ چوہدری جعفر اقبال نے بتایا کہ 2006-07ء میں پرویز مشرف کے دور میں گوادر بندرگاہ کو سنگاپور کو دیا گیا تاہم اس نے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا پھر ہم نے آکر اسے چین کو دیا ٗیہاں پی ایس ڈی پی کے تین منصوبے ہیں۔ 15 ارب روپے کی لاگت سے زیرو پوائنٹ تک سڑک بھی زیر تعمیر ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت چین کے ساتھ کوئی رعایتی معاہدہ نہیں کیا گیا۔ دو کنٹینر ایک بلوچ تاجر کے گئے ہیں۔ کنٹینر لائن آچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چائنہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ اور اس کی تین ماتحت آپریٹنگ کمپنیاں رعایتی عرصہ کے دوران اپنے مجموعی محاصل پر ٹرمینل آپریٹنگ کمپنی 9 فیصد‘ مائرین سروس کمپنی 9 فیصد اور فری زون کمپنی 15 فیصد ادا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر تین چار سال بعد نفع کمانا شروع کردے گا۔ آمدن کا نو فیصد گوادر پورٹ اتھارٹی کا ہوگا۔ فرحانہ قمر نے بتایا کہ پی ایم ڈی سی کی جانب سے رجسٹرڈ میڈیکل کے طلباء کی کل تعداد ایک لاکھ 89 ہزار 157 ہے ٗ پی ایم ڈی سی کے پاس رجسٹرڈ گریجویٹ قابلیت کے حامل طبی اور ڈینٹل ڈاکٹروں کی کل تعداد 42 ہزار 168 ہے۔ رجسٹرڈ میڈیکل کالجز کی کل تعداد 107 ہے ٗان میں 66 نجی کالج شامل ہیں۔ رجسٹرڈ ڈینٹل کالجز کی تعداد 49 ہے اس میں 35 نجی شعبہ کے ہیں۔ایم کیو ایم کے ممبر قومی اسمبلی شیخ صلاح الدین نے ایف آئی اے کی طرف سے بلانے اور ہراساں کرنے پر ایوان سے احتجاجاً واک آئوٹ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے نے دو نمبر آدمی سرفراز مرچنٹ کے الزامات پر ایم کیو ایم کے دس ارکان اسمبلی کو بلا کر تذلیل کی ہمیں لاکھوں لوگوں نے ووٹ دے کر منتخب کیا ہے سرفراز مرچنٹ تو اپنی بیوی سے دو کروڑ روپے لے کر لاہور سے بھاگا ہوا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت ،پاکستان پوسٹ کی نجکاری کر کے چین کی ایک کمپنی جیک ما کو دے رہی ہے اگر جلد بازی میں نجکاری کی گئی تو مخالفت کریں گے ۔دی نیشن کے مطابق پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ حکومت پانی تقسیم کے 1991ء کے معاہدہ پر عملدرآمد نہیں کر رہی، سندھ کو اس کے حصے کا پانی نہیں مل رہا۔ ارکان نے وزیر مملکت جاوید علی شاہ کی طرف سے یقین دہانی کو ماننے سے انکار کر دیا۔

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...