پی اے سی: نیب سربراہ سے سابق چیئرمین سی ڈی اے کی گرفتاری پر وضاحت طلب

15 مارچ 2018

اسلام آباد(نا مہ نگار)پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین سید خورشید شاہ نے چیئرمین نیب سے سی ڈی اے کے سابق چیئرمین عنایت الہی کو گرفتار کرنے کی وضاحت طلب کرلی ہے انہوں نے کہا ہے کہ عنایت الہی کرپشن روکنے والوں میں سے تھے جبکہ نیب کرپٹ افراد کی بجائے کرپشن روکنے والوں کو کیوں گرفتار کر رہا ہے اس کی وضاحت پیش کی جائے جبکہ پبلک اکائونٹس کمیٹی نے وفاقی دارالحکومت کے 4 سیکٹروں میں مبینہ اربوں روپے کی کرپشن اور غیر معمولی تاخیر کی تحقیقات کا فیصلہ کرتے ہوئے سی ڈی اے چیئرمین سے تمام ریکارڈ طلب کرلیا ہے جبکہ ان 4 سیکٹروں کا سپیشل آڈٹ کرانے کا حکم بھی دے دیاہے اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے کی عدم شرکت پر چیئرمین پی اے سی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ پی اے سی کے پاس افسران کو ہتھکڑی لگانے کا اختیار ہو تو افسران دم دبا کر سیدھے پی اے سی میں آئینگے پی اے سی کا اجلاس سید خورشید شاہ کی صدارت میں پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا ۔ اجلاس کے آغاز میں پی اے سی کے چیئرمین نے کا کہ سینٹ الیکشن حال ہی میں ہوئے ہیں اس لئے سینٹ کی طرف سے پی اے سی کے ارکان کا ابھی نوٹیفکیشن نہیں ہوا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اب قومی اسمبلی کی نہیں پارلیمنٹ کی کمیٹی ہے، اس لئے اجلاس کی کارروائی غیرقانونی قرار دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے پی اے سی سیکرٹریٹ کو ہدایت کی کہ سینٹ کے پی اے سی کیلئے ارکان کی نامزدگی کیلئے چیئرمین سینٹ کو خط لکھا جائے۔ پی اے سی نے آڈیٹر جنرل کو ہدایت کی کہ آئی 11، آئی12 ، آئی 14 اور آئی 15 سیکٹروں کا خصوصی آڈٹ کیا جائے تاکہ لوٹنے والے افسران کی نشاندہی ہوسکے .اجلاس کوبتایا گیا کہ چیئرمین سی ڈی اے سپریم کورٹ میں مصروف ہیں جس پر خورشید شاہ نے کہا کہ پی اے سی پارلیمنٹ کی نمائندہ کمیٹی ہے اور پارلیمنٹ سب سے سپریم ادارہ ہے جس کی تکریم سب پر واجب ہیخورشید شاہ نے چیئرمین سی ڈی اے کی اجلاس میں عدم موجودگی کا نوٹس لیتے ہوئے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر سپریم کورٹ نے انہیں طلب کیا ہے تو انہیں ہمیں آگاہ کرنا چاہئے تھا، اگر انہیں پہلے پارلیمنٹ نے طلب کیا ہے تو انہیں پارلیمنٹ آنا چاہئے تھا۔