حلقہ بندیاں نامنظور، حکومت اور اپوزیشن ایک: اعتراضات دور کرکے انتخابات باروقت کرائیں گے: سیکرٹری الیکشن کمشن

15 مارچ 2018

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + آئی این پی) نئی حلقہ بندیوں کے معاملے میں حکومت اور اپوزیشن یک زبان ہو گئے۔ حکومت اور اپوزیشن نے یک زبان ہو کر حلقہ بندیاں نامنظور کر دیں۔ سیکرٹری الیکشن کمشن نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات دور اور الیکشن بروقت کرائیں گے۔ مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ حلقہ بندیاں الیکشن سے پہلے دھاندلی ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے شکوہ کیا ہے کہ زمینی حقائق نظرانداز کئے گئے۔ ایم کیو ایم نے کہا ہے کہ اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا گیا۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ آبادی کے فرق پر عدالت جا سکتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ مجوزہ حلقہ بندیوں سے نوازا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی کی حلقہ بندیوں کے بارے میں قائم کی گئی خصوصی کمیٹی نے مجوزہ حلقہ بندیوں پر شدید اعتراضات اٹھا دیئے، جبکہ اعتراضات کا جائزہ لینے کے لئے ورکنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ، سیکر ٹری الیکشن کمشن بابر یعقوب فتح محمد نے کہا کہ الیکشن کمشن آزاد اور خود مختار ادارہ ہے اور حلقہ بندیوں کی کمیٹیوں کی کارروائی شیئر کرنے کا پابند نہیں ہے ، کمیٹیاں بنانا ہمارا اندرونی کام ہے تا کہ وہ لوگ دبائو میں نہ آئیں ، ہم نے صوبائی حکومتوں سے بھی کوئی مشورہ نہیں کیا ، صرف ان سے نقشے لیکراپنا کام کیا ہے ، جو قانون پارلیمنٹ نے بنایا ہے ہم نے اسی کو فالو کرنا ہے اگر آپ اس میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو اس میں ترمیم کر کے نیا قانون لے آئیں ہم اس پر عمل کریں گے ۔ حلقہ بندیوں پر اعتراضات سننے کیلئے الیکشن کمشن کا تین رکنی ایک بینچ ہوگا، ا بھی صرف قانون کے مطابق حلقہ بندیوں کی ا بتدائی رپورٹ شائع کی ہے اور ابتدائی رپورٹ میں غلطیاں ہوتی ہیں اور ہوں گی ، اگر ہم نے ایک مہینے میں حلقہ بندیاں کر دی ہیں تو ایک مہینے میں اعتراضات بھی سن سکتے ہیں۔بدھ کو قومی اسمبلی کی حلقہ بندیوں کے بارے میں قائم کی گئی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی کو کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ سیکرٹری الیکشن کمشن بابر یعقوب فتح محمد نے پارلیمنٹ سے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ حلقہ بندیوں پر تحریری اعتراضات تاحال دائر نہیں ہوئے۔ الیکشن ایکٹ کے تحت حلقہ بندیاں کر رہے ہیں۔