انکوائریاں اب سالہا سال نہیں چلیں گی‘ بدعنوانوں کیخلاف قانون اپنا: چیئرمین نیب

15 مارچ 2018

اسلام آباد (نامہ نگار+ نوائے وقت رپورٹ)چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب میں آنے والے ہر ملزم اور گواہ کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے اور جو وقت دیا جائے اس پر متعلقہ گواہ اور مبینہ ملزم کا بیان ریکارڈ کیا جائے، مبینہ ملزم اور گوہ کو نیب میں بلاتے وقت کال اپ نوٹس میں اس بات کو واضح الفاظ میں درج کیا جانا چاہیے کہ نیب کے قانون کے تحت آپ کو مبینہ ملزم کے طور پر بلایا جا رہا ہے یا گواہ کے طور پر۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب ہیڈ کوارٹر میں اجلاس کے دوران نیب کے آپریشن ڈویژن خصوصاً آپریشنل حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ اگر کسی کو گواہ کے طور پر نیب میں بلایا جائے تو کال اپ نوٹس میں واضح طور پر تحریر کیا جائے کہ آپ کو نیب کے قانون کے تحت متعلقہ کیس میں گواہ کے طور پر بلایا جا رہا ہے جس میں آپ کے پاس متعلقہ کیس کے متعلق معلومات ہیں جو کہ متعلقہ ملزم کو قانون کے مطابق سزا دلوانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ چیئرمین نیب نے ہدایت کی کہ نیب میں آنے والے ہر ملزم اور گواہ کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے مزید برآں نیب میں آنے والے تمام گواہوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں اس کے علاوہ ہر کیس کی ڈائری کو روزانہ کی بنیاد پر تحریر کیاجائے کمبائن انوسٹی گیشن اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کیس قانون کے مطابق متعلقہ ملزمان کے بیانات اور شواہد کی بنیاد پر مقررہ وقت کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا جائے کیونکہ اب نیب میں جاری شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز سالہا سال تک نہیں چلیں گے اور بد عنوان عناصر کے خلاف قانون اپنا راستہ خود اختیار کریگا۔