پنجاب اسمبلی: سکھوں کی شادیوں کی قانونی حیثیت دینے کا بل متفقہ منظور‘ پاکستان پہلا ملک بن گیا

15 مارچ 2018

لاہور(خصوصی رپورٹر/خصوصی نامہ نگار/کامرس رپورٹر )پنجاب اسمبلی نے سکھوں کی شادیوں کی قانونی حیثیت سے متعلق مسودہ قانون متفقہ طور پر منظور کر لیا ،بل کی منظوری کے بعد پاکستان دنیا میں سکھوں کی شادیاں رجسٹرڈ کرنے والا پہلا ملک بن گیا،اجلاس میںمجموعی طور پر 8مسودات قوانین کی منظور ی دی گئی ، میٹر و بس راولپنڈی ،پرائیویٹ ہائوسنگ سکیموں ،واسا کے آڈٹ اورایم کیٹ اورای کیٹ کی رپورٹس ایوان میں پیش کر دی گئیں،سرکاری کارروائی سے قبل حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا۔ اجلاس ایک گھنٹہ 48منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ پبلک پراسیکیوشن اور داخلہ سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے جانے تھے تاہم سیکرٹری داخلہ کی عدم موجودگی پر محکمہ داخلہ کے بارے میں تمام سوالات موخر کردئیے گئے۔سرکاری کارروائی کے دوران سکھ کمیونٹی کی شادیوں کی رجسٹریشن کا آنند کراج بل 2017ء متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ پنجاب حکومت کے پانچ پارلیمانی سالوں میں منظور ہونے والا پہلا پرائیویٹ ممبر بل ہے ۔ اس سے پہلے بھارت سمیت دنیا کے کسی ملک میں سکھوں کے لیے علیحدہ سے کوئی میرج ایکٹ نہیں تھا۔بھارت میں سکھوں کی شادیاں ہندو میرج ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کی جاتی ہیں۔18 سال سے کم عمر سکھ لڑکے یا لڑکی کی شادی رجسٹرڈ نہیں ہوگی۔باپ کی نسل میں سکھوں کی شادی نہیں ہو سکے گی۔شادی کے لیے چار پھیرے ضروری ہو ں گے۔بل کی منظوری کے لیے رجسٹرار مقرر ہوگا۔شادی کی رجسٹریشن کا سر ٹیفکیٹ جاری ہو گااورشادی کیلئے گورو گرنتھ (مذہبی کتاب) ضروری ہوگی۔ بل کی منظوری کے بعد صوبائی وزراء رانا ثناء اللہ راجہ اشفاق سرور،خلیل طاہر سندھو اور قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید سمیت دیگر نے بل کے محرک سکھ رکن اسمبلی رمیش سنگھ اروڑہ کو بل کی منظوری پر مبارکباد دی ۔رمیش سنگھ اروڑہ نے بھی پنجاب حکومت ،وزیر اعلیٰ شہباز شریف ،وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور اپوزیشن سمیت دیگر کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں پہلی مرتبہ ایسا قانون بنا ہے کہ سکھ اپنی شادیاں اپنے مذہبی رواجات کے مطابق جسٹرڈ کرا سکیں گے ۔پنجاب اسمبلی نے مدت سماعت ترمیمی بل 2018ء منظور کرلیا گیا ۔بل کے مطابق کوئی بھی متاثرہ فریق عدالتوں میں فیصلوں کیخلاف 90کے دوران اپیل کر سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف ناروال ،تیاجن یونیورسٹی ،سیالکوٹ یونیورسٹی،پنجاب ہپاٹائٹس ،چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اور مجموعہ ضابطہ دیوانی ترمیم کے مسودات قوانین کی بھی منظوری دیدی ۔ اپوزیشن کی تمام ترامیم کو مسترد کر دیا گیا۔سپیشل کمیٹی نمبر 9کی ایم کیٹ اور ای کیٹ کے حوالے سے کمیٹی کی سفارشات ایوان میں متفقہ طور پر منظورکرلی گئی۔2018ء کے لیے ایم کیٹ اور ای کیٹ کے لیے میڈیکل اور انجینئرنک کے انٹری ٹیسٹ کے لیے دس فیصد،میٹرک کے لیے بیس فیصد اور انٹرمیڈیٹ کے لیے سترہ فیصد نمبرز کی سفارشات پر عمل کرایا جائے گا۔کمیٹی کی سفارشات پر وفاقی حکومت کوسفارشی خط لکھا جائے گا۔پھر مشترکہ مفادات کونسل میں وزیر اعلی پنجاب دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے ملکر اس کی منظوری کرائیں گے ۔ایم کیٹ اور ای کیٹ کمیٹی کے رپورٹ پی ٹی آئی کے رکن میاں اسلم اقبال نے پیش کی۔اجلاس میں غیر سرکاری ارکان کے دن پر دو قراردادیں منظور کی گئی اور تین نمٹا دی گئی۔پی ٹی آئی کی رکن ڈاکٹر نوشین حامد کی پنجاب کے تعلیمی اداروں کے طلباء بالخصوص ذہنی معذور بچوں پر ہونے والے تشدد کی روک تھام کیلئے موثر قانون سازی کے ذریعے جامع اقدامات کئے جانے اور لیگی رکن شیخ اعجاز کی تعلیمی اداروں میں ’’ڈی جے نائٹس‘‘ پر پابندی کی قراردادیںمتفقہ طور پر منظور کرلی گئیں ۔صوبائی وزیر قانون نے ایوان کو آگاہ کیا کہ اس سے پہلے ہی تمام تعلیمی اداروں پر اس قسم کے پروگرام پر سختی سے پابندی ہے اور اگر کسی کے علم میںہے کہ ایسا پروگرام کسی تعلیمی ادارے میں منعقد کیا گیا ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے کارروائی ہوگی اور قرارداد کی منظوری کے بعد دوبارہ سے یہ مراسلہ تمام تعلیمی اداروں کو بھیج دیا جائے گا۔ وقفہ سوالات کے بعد میاں اسلم کی تقریر کے بعد ہنگامہ آرائی شروع ہو گی ۔لیگی خواتین کی جانب سے ایک مرتبہ پھر عمران خان کی تیسری شادی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔جس پر اپوزیشن خواتین بھی طیش میں آگئیںدونوں جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی جس کی وجہ سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا ۔گزشتہ روز اجلاس میں تین مرتبہ کورم کی نشاندہی کی گئی تاہم حکومت کی جانب سے پیشگی تیاری ہونے کیوجہ سے تعداد پوری کر لی جاتی رہی۔ کورم پورا ہونے پر بھی حکومتی ارکان شیم شیم کے نعرے لگاتے رہے ۔ایجنڈا مکمل ہونے پر سپیکر نے اجلاس آج جمعرات صبح دس بجے تک کیلئے ملتوی کردیا۔پنجاب اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے بھارت میں پاکستانی سفارت کاروں کے عملہ اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ایران کی ثالثی کی پیشکش پر قرادادیں جمع کر ا دی گئی ہیں۔