قومی اسمبلی: بھارت کیساتھ ڈیموں کے ڈیزائنوں پر مذاکرات کا آغاز جلد ہو گا: وفاقی وزیر آبی وسائل

15 مارچ 2018

اسلام آباد ( خصوصی نمائندہ +ایجنسیاں) قومی اسمبلی نے ہائوسنگ بلڈنگ فنانس کارپوریشن (تنسیخی) بل 2017ء قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں منظور کرلیا جبکہ ہائوس بلڈنگ فنانس کارپوریشن (تنسیخی) بل 2017ء کی منظوری دے دی۔ علاوہ ازیں اجلاس کے ایوان کی کارروائی اور طریقہ کار کے قواعد 2007ء کے قاعدہ 234 الف کے مقتضیات کے مطابق جولائی دسمبر 2017ء کی مدت کے لئے قائمہ کمیٹی برائے تجارت و ٹیکسٹائل کی معیادی رپورٹ‘ ایوان کی کارروائی اور طریقہ کار کے قواعد 2007ء کے قاعدہ 234 الف کی مقتضیات کے مطابق جولائی دسمبر 2017ء کی مدت کے لئے قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کی معیادی رپورٹ اور قائمہ کمیٹی برائے پوسٹل سروسز کی معیادی رپورٹ پیش کردی گئیں۔ دوسری طرف اراکین اسمبلی کی طرف سے وزارت کی آبی وسائل بابت پوچھے گئے سوالات کے تسلی بخش جواب نہ ملنے پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایک دفعہ پھر وزیر آبی وسائل سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اراکین اسمبلی کے پوچھے گئے سوالات کے تفصیلی جوابات کیلئے وزارتی حکام کو پارلیمنٹ ہائوس بلانے کا حکم دیا اور وقفہ سوالات کے دوران بار بار وزارت آبی وسائل کے حکام کی ایوان میں پہنچنے بابت پوچھتے رہے۔ اراکین اسمبلی اور سپیکر اسمبلی کی شدید تنقید کے باوجود وزارت آبی وسائل حکام وقفہ سوالات کے دوران ایوان میں نہ آسکے اور وزیر آبی وسائل کی طرف سے اراکین اسمبلی کے پوچھے گئے سوالات کو مطمئن نہیں کیا جا سکا۔ قبل ازیں اراکین اسمبلی خالدہ منصور ، طاہرہ اورنگزیب ، شیخ روحیل اصغر ، نفیسہ عنایت اللہ خان خٹک ، صاحبزادہ محمد یعقوب کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کے ردعمل میں وزیر آبی وسائل سید جاوید علی شاہ نے ایوان کو بتایا کہ دریائے سوات پر منڈ مہمند ڈیم کی تعمیر ضلع اٹک کے علاقوں اکھوڑی میں ڈیم سائیٹ کی تعمیر کی تجاویز پر غور ہیں چنیوٹ ڈیم کے پی سی ٹو جس کی مالیت 146.330 ملین روپے ہے کی سی ڈی ڈبلیو نے منظوری دے دی ہے اس پر کام جاری ہے آبی پالیسی پر عملدرآمد کیلئے 19محکمہ جات ذمہ دار ہیں۔ اے پی پی کے مطابق وقفہ سوالات کے دوران جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید جاوید علی شاہ نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ بھارت کے ساتھ مختلف ڈیموں کے ڈیزائن کے حوالے سے بات چیت کا آغاز جلد ہوگا۔ توقع ہے بات چیت سے مسئلے کا حل نکل آئے گا۔ نیشنل واٹر پالیسی مسودے پر عملدرآمد کی تجویز کردہ طریقہ کار کے مطابق 19 مختلف ادارے نگران ہوں گے۔ اس قومی پالیسی کی منظوری کے فوری بعد عملدرآمد کے لئے سٹیرنگ کمیٹی اپنے کام کا آغاز کردے گی۔ انہوں نے بتایا کہ چنیوٹ ڈیم منصوبہ فی الحال جائزہ کے مرحلے میں ہے۔ وفاقی وزیر آبی وسائل سید جاوید علی شاہ نے قومی اسمبلی کو یقین دہانی کرائی ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران جس آفیسر کی ڈیوٹی تھی اور وہ موجود نہیں تھا اسے ملازمت سے معطل کیا جائے گا۔ دریں اثناء پارلیمانی سیکرٹری راجہ جاوید اخلاص نے کہا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر موجودہ دور حکومت میں ہی کام شروع کردیا جائے گا‘ ایران نے اپنی حدود میں 1100 کلو میٹر تک پائپ لائن بچھائی ہے جبکہ 300 کلو میٹر بچھانی ہے‘ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی مد میں اب تک 267 ارب روپے جمع ہوئے ہیں۔ وقفہ سوالات کے دوران راجہ جاوید اخلاص نے بتایا کہ پاکستان میں توانائی کا بحران تھا۔ گیس کا 48 فیصد ملکی ضروریات پوری کر رہا تھا۔ ڈیمانڈ میں اضافہ کی وجہ سے کئی منصوبے شروع کئے گئے۔ اس وجہ سے جی آئی ڈی سی نافذ کیا گیا تھا۔ 267 ارب روپے اب تک اس مد میں آمدن ہوئی ہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پر ایران کی حدود کے اندر 11 سو کلومیٹر کام ہوا ہے۔ 300 کلو میٹر مزید کام ایرانی حدود میں رہتا ہے۔ پابندیاں ہٹائے جانے پر ہی اس منصوبے کے نرخ کا دوبارہ تعین کیا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اپنی سرزمین دنیا کے کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔ پاکستان جیسے ملک پر پابندیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ وزیر مملکت برائے پورٹ و شپنگ چوہدری جعفر اقبال نے کہا ہے کہ گوادر بندرگاہ سے آئندہ تین چار سالوں میں آمدن شروع ہو جائے گی۔ وفاق کی جانب سے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت 15 ارب روپے کی سڑک سمیت دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے۔ چوہدری جعفر اقبال نے بتایا کہ 2006-07ء میں پرویز مشرف کے دور میں گوادر بندرگاہ کو سنگاپور کو دیا گیا تاہم اس نے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا پھر ہم نے آکر اسے چین کو دیا۔ یہاں پی ایس ڈی پی کے تین منصوبے ہیں۔ 15 ارب روپے کی لاگت سے زیرو پوائنٹ تک سڑک بھی زیر تعمیر ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت چین کے ساتھ کوئی رعایتی معاہدہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ چائنہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ اور اس کی تین ماتحت آپریٹنگ کمپنیاں رعایتی عرصہ کے دوران اپنے مجموعی محاصل پر ٹرمینل آپریٹنگ کمپنی 9 فیصد‘ مائرین سروس کمپنی 9 فیصد اور فری زون کمپنی 15 فیصد ادا کریں گی۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ نجی ٹور آپریٹرز کو حج کوٹہ الاٹ کرنے کی سعودی عرب کی جانب سے کوئی قدغن نہیں‘ یہ حکومت پاکستان کی صوابدید ہے‘ رواں سال 67 فیصد حج کوٹہ سرکاری جبکہ 33 فیصد نجی شعبے کو دیا گیا ہے۔ دریں اثناء وزیر دفاع خرم دستگیر نے مشترکہ میری ٹائم تنظیم بل 2018ء قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔ شیریں مزاری نے بل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بل کی تشکیل میں عالمی اداروں کے قوانین کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ نظرثانی کرکے پیش کیا جائے۔ سی پیک منصوبہ کے تناظر میں عالمی قوانین ضروری ہیں۔ خرم دستگیر نے کہا کہ بل کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ فیصلہ سازی کے لئے میری ٹائم بل لایا گیا ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ چار ہزار کی گنجائش ہے۔ 18 ہزار ویسلز کام کر رہی ہے۔ بہت سی انڈین ویسلز مچھلیاں پکڑ کر بیچ دیتی ہیں۔ اس کے بعد بل کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔