حلقہ بندیوں بارے قائم خصوصی کمیٹی نے اعتراضات کا جائزہ لینے کیلئے ورکنگ کمیٹی بنا دی

15 مارچ 2018

اسلام آباد (وقائع نگارخصوصی ) قومی اسمبلی کی حلقہ بندیوں کے بارے میں قائم کی گئی خصوصی کمیٹی نے مجوزہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات کا جائزہ لینے کے لئے ورکنگ کمیٹی قائم کر دی ہے ، سیکر ٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد نے کہا کہاگر ہم نے ایک مہینے میں حلقہ بندیاں کر دی ہیں تو ایک مہینے میں اعتراضات بھی سن سکتے ہیں الیکشن کمیشن آزاد اور خود مختار ادارہ ہے اور حلقہ بندیوں کی کمیٹیوں کی کارروائی شیئر کرنے کا پابند نہیں ہے ، کمیٹیاں بنانا ہمارا اندرونی کام ہے تا کہ وہ لوگ دبائو میں نہ آئیں ، ہم نے صوبائی حکومتوں سے بھی کوئی مشورہ نہیں کیا ، صرف ان سے نقشے لیکراپنا کام کیا ہے ، بدھ کو قومی اسمبلی کی حلقہ بندیوں کے بارے میں قائم کی گئی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی کو کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا کمیٹی اجلاس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئی نئی حلقہ بندیوں پر اعتراضات پر غور کیا گیا ۔ وزیر نجکاری دانیال عزیز نے کہا کہ حلقہ بندیوں میں آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے ، وقت بہت کم ہے ، ہم ان شکایات کو ایک کیٹگری میں اکٹھا کر لیتے ہیں ۔ 25مارچ تک سارا عمل کر کے الیکشن کمیشن کو ارسال کر دیتے ہیں ، گائیڈ لائن ہی نہیں بنی ایک صفحے کو گائیڈ لائن نہیں کہہ سکتے ، چیئرمین کمیٹی مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ کمیٹی تجاویز مرتب کر کے بااختیار فورم الیکشن کمیشن کو بھیجے گی۔ عارف علوی نے کہا کہ اس حوالے سے قانون تبدیل کرنا الیکشن کی تاخیر کا باعث بن سکتا ہے ، مجھے 10تاریخ تک حلقہ بندیوں کے نتائج نہیں ملے وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں اب ایک اور ضلع 95 ہزار سکوائر کلومیٹر پر بنا دیا۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...