سپین یورپی یونین کی اہم اور ابھرتی معیشت ہے، کارلوس مورالس

15 مارچ 2018

سیالکوٹ(نامہ نگار)پاکستان میں تعینات سپین کے سفیر کارلوس مورالس نے کہا کہ سپین یورپی یونین کی اہم اور ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔ اپنے محل وقوع کے اعتبار سے یورپ سمیت امریکہ اور افریقی ممالک تک پاکستان مصنوعات کی رسائی کیلئے سپین اہم تجارتی مرکز کا کردار ادا کر سکتا ہے۔سپین پاکستان سے ایک ارب یورو کی ٹیکسٹائل مصنوعات خریدتا ہے اور جب سے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ میں ہے پاکستان سے ٹیکسٹائل کی مصنوعات کی برآمدات میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے شیخ محمد شفیع ہال میں مختلف ٹریڈ باڈیز کے سربراہوں، صنعتکاروں اور برآمدکنندگان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیمبر کے سینئر نائب صدر عبدالوحید، نائب صدر عابد خواجہ، ملک وقاص اکرم اعوان، سابق صدر میاں نعیم جاوید، کلوز ایسوسی ایشن کے محمد یونس، سرجیکل ایسوسی ایشن کے ذیشان طارق، رانا نصیر، قیصر بیگ، ابرار یعقوب، مرزا قیصر بیگ، سپورٹس گڈز ایسوسی ایشن کے حسنین چیمہ اور دیگر بھی موجود تھے۔ کارلوس مورالس نے پاکستانی برآمدات کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سپین میںپہچان صرف ٹیکسٹائل سیکٹر کے حوالہ سے ہے اس کے علاوہ کوئی قابل ذکر مصنوعات نہیں ہیں جو پاکستان سے سپین برآمد ہو رہی ہوں۔لہذا پاکستانی بالخصوص سیالکوٹ کی تیار کردہ مصنوعات کی سپین مارکیٹ تک رسائی کیلئے بہتر مارکیٹنگ حکمت عملی اپناتے ہوئے متعارف کروا سکتے ہیں۔سپین B2Bمیٹنگز اور نجی شعبہ میں تعاون کیلئے پاکستانی برآمد کنندگان کی بھر پور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ سپین میں اس وقت جو برانڈز کامیابی کے ساتھ بزنس کر رہے ہیں ان سب نے یورپی یونین کی جانب سے فراہم کردہ برآمدی رعایت جی ایس پی پلس سے بھر پور فائد اٹھایا ہے لہذا پاکستانی برآمدکنندگان بھی اس رعایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ قبل ازیں صدر سیالکوٹ چیمبر زاہد لطیف ملک نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ صدر چیمبر نے کہا کہ دونوں ممالک میں تجارتی حجم صرف 1.1ارب یورو ہے جو کہ انتہائی کم ہے۔ سپین ٹیکنالوجی اور پاکستانی ہنر مند د مل کر دونوں ممالک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چیمبر ممبران کی جانب سے سپین سفارتکار سے پاکستانی برآمدکنندگان کے سافٹ امیج کو پروان چڑھانے کیلئے سفارتخانہ کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔