موسمیاتی تبدیلی سے زراعت سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے،سکندر حیات

15 مارچ 2018

اسلام آباد (نا مہ نگار) وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ اور تحقیق سکندر حیات خان بوسن نے کہا ہے کہ پانی کے وسائل اور زراعت کے شعبہ میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے ، آبادی میں اضافہ، نئے شہروں کی آباد کاری، وسعت اور عالمی درجہ حرارت میں اضافہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچر ڈویلپمنٹ (آئی ایف اے ڈی) کے زیر اہتمام دور دراز دیہی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق آگاہی اور تیاری کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایف اے ڈی کا زرعی شعبہ کی ترقی، بہتری اور دیہی ترقی میں اہم کردار ہے اور پاکستان کی اس ادارہ کے ساتھ وابستگی پرانی اور دیرپا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی فصلوں، لائیو سٹاک، سمندری خوراک اور جنگلات کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شعبہ ہے، زرعی شعبہ کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کیلئے مؤثر اور منظم اقدامات کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں بین الاقوامی اداروں کا تعاون ناگزیر ہے۔