پاکستان نے بھارت کیخلاف درپردہ جنگ شروع کررکھی ہے: بھارتی وزیر کی پارلیمنٹ میں ہرزہ سرائی

15 مارچ 2018

نئی دہلی (کے پی آئی )بھارتی امور داخلہ کے وزیر مملکت ہنس راج آہر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ 2018کے دو ماہ کے دوران 60عسکری واقعات رونما ہوئے جس میں 15سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اس دوران سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 17جنگجومارے گئے جبکہ دو عام شہری بھی جاں بحق ہوئے۔مرکزی وزیرنے مزید کہا کہ رواں برس دو ماہ کے دوران پاکستان نے 633مرتبہ سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی کی اور اس دوران 12عام شہری اور آٹھ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ لوک سبھا میں ارکان کے سوالوں کا جواب دیتے ’’ہنس راج آہر ‘‘ نے مزید کہاکہ پاکستان نے بھارت کے خلاف درپرہ جنگ شروع کی ہے۔ ریاست جموںوکشمیر میں حالات کو درہم برہم کرنے کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے۔ آزادکشمیر میں جنگجوئوں کو جدید اسلحہ کی تربیت دے کرمقبوضہ کشمیر دھکیلنے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ دراندازی کی روک تھام کیلئے سرحدوں پر جدید آلات نصب کئے گئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ رواں سال جنوری کے دوران عسکریت پسندوں نے لائن آف کنٹرول اور حد متارکہ پر 16مرتبہ آنے کی کوشش کی تاہم بھارتی فورسز نے عسکریت پسندوں کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔ دراندازی کرنے والے چار عسکریت پسندوں کو فوج نے مار گرایا۔ وزیر مملکت کا کہنا تھاکہ رواں سال پانچ دراندازی کی کوششیں کامیاب ہوئی ہیں۔ ریاست خاص کروادی کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کیلئے مرکز اور ریاستی حکومت کی جانب سے اقدامات اٹھائے جار ہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پچھلے سال کے مقابلے میں رواں برس کے دوران حالات میں کافی سدھار دیکھنے کو ملا ہے۔ مرکزی وزیر مملکت نے مزید کہاکہ کسی کو بھی ریاست کے حالات کو درہم برہم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں امور داخلہ کے وزیر مملکت نے کہاکہ پاکستان نے رواں برس کے دو ماہ کے دوران 633مرتبہ سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت کی چوکیوں کے ساتھ ساتھ رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ گولہ باری کی وجہ سے 12عام شہری ہلاک جبکہ 59زخمی ہوئے۔ انہوںنے کہاکہ دو ماہ کے دوران گولہ باری کے نتیجے میں چار فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 18مضروب ہوئے۔