سینٹ الیکشن: ہارس ٹریڈنگ کی تحقیقات خفیہ اداروں سے کرانے کا فیصلہ

15 مارچ 2018

اسلام آباد ( خصوصی نمائندہ +آئی این پی+ اے این این) الیکشن کمشن نے سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگانے والے اراکین اور پارٹی سربراہان سے شواہد طلب کرلیے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ کی تحقیقات کے لئے تمام اختیارات استعمال کریں گے، بدقسمتی سے جو ووٹ خریدتے ہیں وہ بھی پارلیمنٹیرینز ہیں اور جو بیچتے ہیں وہ بھی پارلیمنٹیرینز ہیں۔ بدھ کو الیکشن کمشن میں سینٹ انتخابات کے دوران مبینہ ہارس ٹریڈنگ سے متعلق معاملے کی سماعت چیف الیکشن کمشنرسردار محمد رضا کی سربراہی میں 5رکنی بینچ نے کی ۔ عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل شاہد گوندل، ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے ایس اے اقبال قادری ، وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب اور مسلم لیگ (ن) کی رہنماء عظمیٰ بخاری ، اور وزیر اعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام پیش ہوئے۔ عمران خان کے وکیل نے کہا ہم نے نکوائری کمیٹی بنا دی ہے ۔ ہم الیکشن کمشن کے ساتھ ہارس ٹریڈنگ کی تحقیقات کے لئے مکمل معاونت کریں گے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اخبارات اور ٹی وی پر بھی آیا ہے کہ سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے۔ وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا الیکشن کمشن آرٹیکل 220 کے تحت تحقیقات کرسکتا ہے اور یہ آرٹیکل الیکشن کمشن کو انٹیلی جنس یجنسیوں کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ،ووٹ خریدنا اور بیچنا جرم ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری مدد کریں۔ ایس اے قبال قادری نے کہاہم نے اپنی گزارشات تحریری طور پر جمع کرادیں ہیں۔ پورا میڈیا بھر ا پڑا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے ۔، چیف الیکشن کمشنر نے کہا نے کہا کہ بدقسمتی سے جو ووٹ خریدتے ہیں اور وہ بھی پارلیمنٹیرینز ہیں اور جوبیچتے ہیں وہ بھی پارلیمنٹیرینز ہیں۔عظمی بخاری نے سماعت کے دوران کہا کہ چوہدری سرور نے اعتراف کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے 6 ایم پی ایز نے ان کا ساتھ دیا لیکن ان کا نام نہیں بتائوں گا۔ کیا آپ چوہدری سرور کو نوٹس کر سکتے ہیں؟، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ اسی لئے آپ کی معاونت چاہتے ہیں ان کو بھی بلا لیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ کی تحقیقات کے لئے تمام اختیارات استعمال کریں گے۔ہم خفیہ اداروں‘ ایف آئی اے اور دیگر اداروں سے بھی مدد لیں گے۔ الیکشن کمشن نے کیس کی مزید سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...