بعض عناصر مسلم لیگ‘ جے یو آئی اتحاد ختم کرانے کیلئے سرگرم عمل

15 مارچ 2018

اسلام آباد (محمد نواز رضا۔ وقائع نگار خصوصی) باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں میں غلط فہمیوں کا باعث بن گیا ہے۔ بعض عناصر پورے شدومد سے مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے درمیان ’’اتحاد‘‘ ختم کرانے کیلئے سرگرم عمل ہو گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر عبدالقیوم سومرو نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے 3 سینیٹرز نے پی ٹی آئی + پیپلز پارٹی + آزاد گروپ کے چیئرمین کے لئے امیدوار کو ووٹ دیئے تاہم انہوں نے سینیٹر کلثوم پروین کا نام لینے پر تردید نہیں کی تاہم انہوں نے مزید نام بتانے سے معذوری کا اظہار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت کا کوئی رکن پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ دینے کا تصور نہیں کر سکتا۔ جبکہ مولانا عطاء الرحمٰن نے کہا ہے کہ ہم نے ایجنسیوں کے ایماء پر ووٹ نہیں دیئے اس لئے ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔مسلم لیگ (ن) بھی اپنے ذرائع سے اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کن جماعتوں کے ارکان نے راجہ محمد ظفر الحق کو ووٹ نہیں دیئے۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما نے نوائے وقت کے استفسار پر بتایا کہ فاٹا‘ ایم کیو ایم کے ارکان نے ’’دباؤ‘‘ کے ماحول میں ہم کو ووٹ نہیں دیئے۔ ہمیں یقین تھا کہ ہمیں فاٹا کے بیشتر ارکان کے ووٹ ملیں گے لیکن حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ بڑے دباؤ میں تھے۔ ایم کیو ایم کے ارکان بھی دباؤ کی کیفیت میں ووٹ ڈالنے آئے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو اس بات کا یقین ہے کہ نیشنل پارٹی‘ جماعت اسلامی‘ پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے چیئرمین کے منصب کیلئے ووٹ دیئے۔ ذرائع کے مطابق سینیٹ میں مسلم لیگ اور اتحادی جماعتیں دیگر پارلیمانی جماعتوں سے مل کر ایک نیا گروپ بنائیں گی۔