نوازشریف کا بیان غیر سنجیدہ‘ تحمل کا مظاہر ہ کر رہے ہیں: سپریم کورٹ

15 مارچ 2018

اسلام آباد ( نمائندہ نوائے وقت+ آئی این پی) سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی ایک اور درخواست خارج کر دی گئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے نواز شریف کا بیان غیرسنجیدہ ہے، مگر تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقت نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار شیخ احسن الدین نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف نے عدالت کی توہین کی، قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے لاہور ریلی کے دوران عدلیہ کو متنازعہ بنایا اور کہا کہ میری نااہلی 20 کروڑ عوام کے ووٹ کی توہین ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کسی اور مقام پر شاید توہین آمیز بات کی گئی ہو، جو مواد آپ نے پیش کیا وہ سیاسی ہے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق کے خلاف بھی توہین عدالت کی رٹ خارج کر دی۔ وکیل درخواستگزار نے موقف اپنایا کہ خواجہ سعد رفیق کی صرف 2 تقاریر دیکھ لیں، وفاقی وزیر کا انداز گفتگو توہین عدالت ہے۔ چیف جسٹس نے کہا دکھا دیں کونسی تقاریر ہیں، کئی چیزیں ہمارے پاس پڑی ہیں ہم درگزر کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے وزیر نجکاری دانیال عزیز کے خلاف بھی دائر توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق فیصلوں پر تبصرہ ہرآدمی کا حق ہے۔ ہم نہیں سمجھتے جو مواد ہمارے سامنے پیش کیا گیا وہ توہین عدالت سے متعلق ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کیا مسلم لیگ (ن) نے 20کروڑ ووٹ لئے تھے؟ عدالتی تحمل بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ شیخ احسن نے کہا عدالتی تحمل کی بھی ایک خاص حد ہوتی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے مکالمہ کیا کہ شاید اس معاملے میں حد کراس نہیں ہوئی، شاید کسی اور موقع پر اس سے زیادہ ہوئی ہو۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے شیخ احسن الدین سے مکالمہ کیا آپ کی حد سے ہماری حد زیادہ ہے۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا خواجہ سعد رفیق نے کہا یہ احتساب نہیں انتقام ہے۔ سعد رفیق نے کہا صادق اور امین کا تماشا لگا تو معاملہ بہت دور تک جائیگا۔ درخواست گزار کے وکیل کے دلائل پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسے بیانات کو ہم درگزر کررہے ہیں۔کئی چیزیں اس سے بڑی ہوئی ہیں۔