بنی گالہ‘ کراچی والے سنجرانی کے دربار پر کیوں جھکے وجہ سامنے آنی چاہئے: نوازشریف

15 مارچ 2018

اسلام آباد (نامہ نگار+ این این آئی+ آن لائن+ نوائے وقت رپورٹ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے سینٹ الیکشن پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنی گالہ والے اور کراچی والے ایک ہی دربار پر جاکر جھکے اس کی کیا خاص وجہ تھی وہ عوام کے سامنے آنی چاہیے۔ احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ بنی گالہ اور بلاول ہاؤس والے ایک ہی دربار پر جا کر کیوں جھک گئے، کراچی سے آنے والے بھی سنجرانی کے دربار پر جا کر جھک گئے۔ کیا وجہ تھی کہ جی پی ایس کی طرح ہر کوئی ایک ہی جگہ پر جا پہنچا۔ نواز شریف نے کہا کون سی خاص وجہ تھی سارے وہاں جا کر جھکے، صحافی نے نواز شریف سے پوچھا کہ سینٹ چیئرمین کے الیکشن کی طرح عام انتخابات کو بھی مینج کیا گیا تو کیا کریں گے؟ نواز شریف نے جواب دیا کہ اب نہ وہ وقت رہا اور نہ ہی حالات۔ دنیا اب بہت آگے چلی گئی ہے۔ نگران حکومت آئین سے بالاتر ہو کر کوئی کام نہیں کر سکتی۔کیا وجہ تھی کہ ہر کوئی ایک ہی جگہ پر جا پہنچا اور اس حوالے سے کوئی اختلاف سامنے نہیں آیا۔ تمام لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں اس کی وجوہات کیا ہیں وہ عوام کے سامنے ضرور آنی چاہیئں۔ دریں اثناء سابق وزیراعظم سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پنجاب ہاؤس میں ملاقات کی جس میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کو ہونے والی اپ سیٹ شکست پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر سابق ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری کو خصوصی طور پر رابطہ کرکے طلب کیا گیا کیونکہ مسلم لیگ ن کی طرف سے جمعیت علماء اسلام (ف) پر ووٹ نہ دینے کے حوالے سے شک کا اظہار کیا جارہا ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری جب طلب کرنے پر پنجاب ہاؤس پہنچے تو میڈیا نمائندوں نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو بلایا گیا ہے یا آپ خود آئے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے طلب کیا گیا ہے۔ صحافیوں نے استفسار کیا کیا آپ نے مسلم لیگ ن کو ووٹ نہیں دیا تھا تو انہوں نے جواب دیا، کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا جس نے ووٹ نہیں دیا اس کو پتہ ہوگا۔ فضل الرحمان نے ملاقات کے موقع پر کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہماری پارٹی کے لوگ ن لیگ کو ووٹ نہ دیں۔ اس کے باوجود ہم تحقیقات کرائیں گے۔ آئی این پی نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ نواز شریف نے سینٹ انتخابات میں شکست پر تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان کو بتایا اور جے یو آئی سینیٹرز کی جانب سے راجہ ظفر الحق کو ووٹ نہ دینے پر شکوہ کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے ترجمان سینیٹر ڈاکٹر آصف کرمانی نے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں قائدین کے درمیان ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، اس ملاقات کے حوالے سے میڈیا میں کی جانے والی قیاس آرائیوں میں کوئی حقیقت نہیں، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان باہمی احترام اور عزت کا رشتہ ہے اور دونوں ایک دوسرے کے قابل اعتماد اتحادی ہیں۔