سپریم کورٹ‘ توہین عدالت کیس میں طلال چودھری فرد جرم سے بچ گئے

15 مارچ 2018

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ آف پاکستان میں وزیر مملکت طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران طلال چوہدری فردجرم سے بچ گئے ، سماعت کے دوران جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ مقدمات میں تاخیر سے صرف وقت ضائع ہوتا ہے، جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی ایک شخص کی شان میں گستاخی کی بات نہیں، ادارے کا معاملہ ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ آپکا کیس خراب ہو رہا ہے،طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت آج تک ملتوی کردی گئی۔ جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران طلال چوہدری وکیل کامران مرتضیٰ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، طلال چوہدری کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ انہیں سنا جائے، کامران مرتضی نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کو دیکھ لیں شاہد ہمارا کیس بہتر ہو جائے، جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دئیے کہ آج ہم نے فرد جرم عائد کرنی ہے، مقدمات میں تاخیر سے صرف وقت ضائع ہوتا ہے، طلال چوہدری کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ اس کیس سے کسی کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہو رہے۔ اگر بدتمیزی ہوئی بھی ہے تو آپ کی ذات سے، جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دئیے کہ یہ کسی کی ذات کا مسئلہ نہیں ادارے کی بات ہے، دن بدن آپ کا کیس مزید خراب ہو رہا ہے، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ نوٹس کے بعد طلال چوہدری بہت محتاط ہیں، طلال چوہدری کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت آج تک کیس کو ملتوی کردے دلائل دینا چاہتا ہوں، عدالت فرد جرم عائد نہ کرے، عدالت نے کامران مرتضیٰ کی کیس ملتوی کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت آج تک ملتوی کردی۔