حکومت سو رہی ہے پیسہ باہر جانے سے روکنے کیلئے آرڈیننس ہی لے آتی : چیف جسٹس

15 مارچ 2018

اسلام آباد (ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفصیلات آنے پر دیکھیں گے کیا قانون سازی ہو سکتی ہے اور کیا فیصلہ دیا جا سکتا ہے۔ لوگ اوپن مارکیٹ سے ڈالر خرید کر فارن اکاﺅنٹ سے باہر بھیج دیتے ہیں، حکومت نے اب تک کیا کیا ہے، کیا حکومت سو رہی ہے؟ عدالت نے گورنر سٹیٹ بنک کے پیش نہ ہونے پر اظہار برہمی کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر سٹیٹ بنک کو عدالت میں موجود ہونا چاہیے تھا گورنر سٹیٹ بنک پر عدالت انحصار کررہی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی حکم پر بنی کمیٹی نے تجاویز وسفارشات پیش کردی ہیں فارن کرنسی کی موومنٹ کے حوالے سے قوانین میں ترمیم کی سفارش کی ہے۔ چیک اینڈ بیلنس کے لئے قوانین میں ترمیم درکار ہے جبکہ دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدوں کے مسائل بھی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کمیٹی کی تجاویز ہمیں اتنی متاثر کن نہیں لگیں یہ تجاویز تو ہم بھی لکھ سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے تجویز دی کہ کمیٹی کو مستقل کردیتے ہیں کمیٹی پیسہ لاکردے۔ سیکرٹری خزانہ نے کہاکہ قانون سازی کے لئے پارلیمنٹ سے منظوری درکار ہے اثاثوں کی پاکستان منتقلی پر کئی اجلاس ہوچکے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ ہرلیکس میں آتا ہے پاکستانیوں کی کتنی جائیدادیں باہر ہیں ملک کا پورا نظام ایلیٹ طبقے کوسپورٹ کرتا ہے، حکومت کو اب تک ایکشن لینا چاہئے تھا۔ سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ پیسے کو باہر جانے سے روکنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے کیس روزانہ کی بنیاد پر سننے کا عندیہ دیتے ہوئے کہاکہ ایف بی آر نے اس حوالے سے اب تک کیا کیا ؟ ملک کا پیسہ باہر جانے سے تباہی ہوتی ہے آئندہ سماعت پر گورنر سٹیٹ بنک بھی پیش ہوں، جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت سورہی ہے، پیسہ باہر لے جانے سے روکنے کے لیے کچھ تو کرتی ایک آرڈیننس ہی لے آتی۔ پاناما اور پیراڈائزلیکس میں شامل پاکستانیوں کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں، ممبر ریونیو ایف بی آر نے عدالت کو بتایا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو اثاثے ظاہرکرنے کےلئے ایمنسٹی اسکیم مارچ کے اختتام تک متعارف کرائی جائےگی جس کا فارمیٹ تیار ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قانون میں خامیوں کے باعث کسی نے اثاثے ظاہر کرنے کی زحمت ہی نہیں کی، ہمیں لیکس سے پتا لگتا ہے کہ لوگوں کی کتنی پراپرٹیز باہر ہیں، اگر اس میں قانونی اقدامات کرنے ہیں توکام شروع ہونا چاہیے۔ سیکرٹری فنانس نے عدالت میں کہا کہ کیس کے دو حصے ہیں، ایک باہر سے پیسہ لانے کا، ایک باہر جانے سے روکنے کا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کوکچھ نہ کچھ اقدام کرنا چاہیے تھا تاکہ پیسہ باہرجانے کا سلسلہ بند ہو، پاکستان کی تباہی ایسے ہوتی ہے کہ لوگ پیسہ اڑا کرباہرلے گئے۔ جسٹس ثاقب نثار نے چیئرمین ایف بی آر سے استفسار کیا کہ آپ ان لوگوں کو نہیں پکڑسکے جن کے نام پاناما اور دیگر لیکس میں آئے۔ چیئرمین ایف بی آر نے جواب دیا کہ ہم نے اشتہارات دیئے لیکن کوئی انفارمیشن نہیں آئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ ہم پاکستان سے باہر پیسہ لے جانا بند کرسکتے ہیں یا نہیں، ہم نے دو باتوں پر فوکس کیا ہے، کمیٹی نے تو کچھ نہیں کرنا، جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ پاکستانی شہریوں کی باہرپراپرٹی کیا ہیں اور اکاو¿نٹ میں کیا رکھا ہوا ہے؟ چیف سیکریٹری فنانس نے کہا کہ تین ماہ سے حکومت کے سامنے چیزیں لائے ہیں۔ وہ سورہی ہے، یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کن کن لوگوں کے ملک سے باہرکرنسی اکاو¿نٹس ہیں، بچوں کی پڑھائی کے لیے رقوم بھیجنا الگ چیز ہے۔
چیف جسٹس