لاہورہائیکورٹ نے پنجاب سے منتخب 11 (ن) لیگی سینیٹرز کی آزاد حیثیت میں کامیابی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دینے کی درخواست پر الیکشن کمشن، وفاقی حکومت اور سینیٹرز کو نوٹس

15 مارچ 2018

لاہور(آئی این پی) لاہورہائیکورٹ نے پنجاب سے منتخب 11 (ن) لیگی سینیٹرز کی آزاد حیثیت میں کامیابی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دینے کی درخواست پر الیکشن کمشن، وفاقی حکومت اور سینیٹرز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق درخواست کی سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کی۔ تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر زرقا سہروردی کے وکیل نے موقف اختیار کیا ن لیگی امیدواروں کو نوازشریف نے سینیٹ کے ٹکٹ جاری کیے۔ نااہلی کے بعد نوازشریف کسی امیدوار کو پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کا آئینی اور قانونی استحقاق نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشن نے غیرقانونی طور پر ن لیگی امیدواروں کو آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جو کہ آئین اور عوامی نمائندگی ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ عدالت اختیارات سے تجاوز کرنے پر الیکشن کمشن سے وضاحت طلب کرے اور ن لیگی امیدواروں کے آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے کے عمل کو کالعدم قرار دے۔ یہ بھی کہا گیا عدالتی فیصلہ آنے تک پنجاب سے نو منتخب 11 ن لیگی سینیٹرز کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن معطل کیا جائے۔ عدالت نے مذکورہ منتخب سینیٹرز اور دیگر فریقین کو 2 اپریل کےلئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔عدالت نے اس نوعیت کی تمام درخواستوں کو یکجا کرنے کی ہدایت بھی کردی۔
سینیٹرز/ ہائیکورٹ