پاکستانیوں کی بیرون ملک چھپائی دولت 15 دنوں میں واپس لائی جائے: سپریم کورٹ

15 مارچ 2018

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاکستانیوں کے بیرون ملک اکائونٹس کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت۔ عدالت نے بیرونی ممالک میں پاکستانیوں کی چھپائی گئی دولت کووطن واپس لانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کا حکم دیدیا،عدالت نے سنیئرقانون دان شبر زیدی اور محمود مانڈووی والہ کو کیس میں عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے سماعت 20مارچ تک ملتوی کردی ہے ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ چیف جسٹس کہ لوگ پاکستا ن سے پیسہ اڑا کر لے گئے ،ملک کی تبا ہی ہورہی ہے ،کیا حکومت سو رہی ہے؟ ۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا آئے دنوں پاناما اور پیراڈائیز طرز کی لیکس سامنے آرہی ہیں ،پہلے بھی ایمنسٹی دی گئی لیکن اُس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ قانون میں نقص ہے ،قوانین اشرافیہ کیلئے بنائے جاتے ہیں ۔عدالت نے پوچھا 2سے 5فیصد تک ایمنسٹی دینے کا کہا جارہا ہے اس پر سیکرٹری فنانس نے واضح کیا میں نہیں سمجھتا اخبارات میں شائع ہونیوالی یہ خبر درست ہے ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ہم وطنوں کے بیرونی ممالک میں بنک اکائونٹس سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔عدالت نے پوچھا گورنر اسٹیٹ بنک کیوں نہیں آئے؟ عدالت کو بتایا گیا تحریری رپورٹ جمع کرا دی ہے ۔چیف جسٹس نے کہا گورنر اسٹیٹ بنک کو یہاں ہونا چاہئے تھا۔سرکاری وکیل نے پیش کردہ رپورٹ پڑھی جس میں بیرونی ممالک میں بنک اکائونٹس سے متعلق سفارشات مرتب کی گئی ہیں ۔چیف جسٹس نے کہا ہمیں 15 دنوں میں پیسے واپس لا کر دیں،بیرون ممالک کہاں کہاں جائیدادیں ہیں ہمیں بتائیں،ابھی تک ہم نے 4 پراپرٹیز کا کہا تھا اس کا پتہ نہیں چلا،رپورٹس تو بن جاتی ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں ہوتا۔سیکرٹری فنانس عدالت نے میں پیش ہوئے اور کہا ہوسکتا ہے آئندہ دنوں میں پارلیمنٹ میں اس حوالے سے اقدامات کیے جائیں ۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا ایمنسٹی اسکیمیں دی جاتی ہیں لیکن اُنکا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اس کی بڑی وجہ قانون میں نقائص ہیں ،آئے دن پاناما پیپرز اور پیراڈائیز طرز کی لیکس سامنے آرہی ہیں ،اشرافیہ کیلئے قوانین بنائے جاتے ہیں ۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے مزید کہا قانون بنانے والوں کی جانب سے اب تک اقدامات کیے جانے چاہیں تھے،پیش کردہ رپورٹ موثر نہیں ہے۔سیکرٹری فنانس نے کہا پیسے کو باہر لیکر جانے سے روکنے کیلئے فنانس ایکٹ میں تبدیلی کرنی ہے۔اس پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کیا بل ڈرافٹ کیا گیا ہے۔سیکرٹری فنانس نے کہا اقدامات کر رہے ہیں۔چیف جسٹس نے سیکرٹری فنانس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ حکومت ہیں آپکو کچھ کرنا چاہیے تھا،لوگ پاکستان سے پیسہ اڑا کر لے گئے،ملک کی تباہی ہوچکی ہے۔چیف جسٹس نے مزید کہا ابھی تک پاناما اور پیراڈائیز اسکینڈل میں شامل لوگوں کو تلاش نہیں کیا گیا ،ہم نے اخبارات میں اشتہارات دینے کا کہا تھا ۔ا س پر سیکرٹری فنانس نے جواب دیا اخباروں میں اشتہارات دیے لیکن معلومات نہیں ملیں۔چیف جسٹس بولے بلے جی ،بغیر وضاحت پاکستان سے باہر پیسے لیکر جانا ملک کیلئے تباہی ہے،کیا ہم فارن اکاؤنٹس سے رقوم واپس ملک میں منگواسکتے ہیں اس بارے میں معاونت د ی جائے ۔جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا جرمنی نے سوئیزلینڈ میں ہزاروں اکاؤنٹس کو تلاش کیا، بھارت نے بھی 6 ہزار بیرونی اکاؤنٹس کو تلاش کیا۔چیف جسٹس نے کہا کیا حکومت سو رہی ہے؟۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا ہم آجتک یہ شناخت نہیں کرسکے بیرونی ملک بھیجی گئی رقوم پر ٹیکس عائد ہوا یا نہیں؟۔چیف جسٹس نے کہا پیسے دیکر ڈالر خریدے جاتے ہیں اور پھر انھیں اکائونٹ میں ڈال کر بیرونی ملک منتقل کر دیا جاتا ہے ۔عدالت نے شبر زیدی اور محمود مانڈووی والہ کو کیس میں عدالتی معاون مقرر کردیا ۔کیس کی سماعت 20مارچ تک ملتوی کردی گئی

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...