شہباز شریف کو نامکمل تنظیمی ڈھانچے اور مختلف دھڑے بندیوں کا چیلنج درپیش

15 مارچ 2018

راولپنڈی (سلطان سکندر) وزیراعلیٰ پنجاب اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائم مقام صدر میاں شہباز شریف کے پارٹی کا صدر منتخب ہونے پر اگرچہ پارٹی میں خیرمقدم کیا جا رہا ہے تاہم ان کیلئے پارٹی کو مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور آنے والے عام انتخابات میں موثر کردار ادا کرنے کیلئے پارٹی کی صوبائی‘ ضلعی ‘ شہری اور تحصیل سطح پر تنظیم سازی کو مکمل کرنے اور مقامی دھڑے بندیوں کو ختم کرنے پر اولین فوری توجہ دینے کی ضرورت ہوگی۔ گزشتہ کئی سال سے خاص طور پر پنجاب میں مسلم لیگ ن کی ضلعی اور شہری تنظیمیں نامکمل چلی آ رہی ہیں۔ صرف صدور اور جنرل سیکرٹریوں کی نامزدگی عمل میں لائی گئی تھی۔ اب اگرچہ عام انتخابات قریب آ جانے کی وجہ سے پارٹی کے اندر انتخابی عمل تو شائد ممکن نہ ہو لیکن عہدیداروں کی جلد نامزدگیوں کے ذریعے یہ تنظیمی خلاء پرکیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ سینٹ انتخابات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نفسیاتی فضائ‘ ملک کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں نئی صف بندی اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندی کی روشنی میں ضلعی اور شہری سطح پر پارٹی کی سیاسی اور انتخابی قوت کو مجتمع کرنے کا چیلنج درپیش ہوگا۔ جس سے بیوروکریٹک کی بجائے سیاسی انداز میں عہدہ برآ ہونا ہوگا۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...