اسلام آباد میں قائم 4 سو غیرقانونی مدارس کے مستقبل کا فیصلہ آج ہو گا

15 مارچ 2018

اسلام آباد (وقائع نگار) وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں 400 سو غیرقانونی دینی مدارس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے نیکٹا نے سٹیک ہولڈرز کا اجلاس آج طلب کرلیا ہے اجلاس میں چیف کمشنر ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد ، سی ڈی اے ، پولیس حکام اور وفاق المدارس کے نمائندے شریک ہونگے ۔ ذرائع کے مطابق وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں چار سو سے زائد ایسے دینی مدارس جو ریاستی اداروں کی منظور ی کے بغیر تعمیر کیے گئے ہیں ان کو ختم کرنے یا ان کی ضلعی انتظامیہ سے ممکنہ رجسٹریشن کے حوالے سے نیکٹا نے اہم اجلاس طلب کرلیاہے اجلاس آج وزارت داخلہ میں منعقد ہوگا جس میں چیف کمشنر و ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر اداروں کے سربراہان شریک ہونگے واضح رہے کہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ میں اس وقت 172دینی مدارس رجسڑڈ ہیں جن کی تعمیر کے لیے سی ڈی اے نے باقاعدہ طورپر جگہ مختص کی ہے تاہم چار سو سے زائد دینی مدارس ایسے ہیں جو نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ یہ مدارس سٹیٹ لینڈ پر گرین ایریا پر بنائے گئے ہیں جن کے خلاف سی ڈی اے بھی کاروائی کرنے کا متمنی ہے ا س زریعے کے مطابق نیکٹا ان مدارس کے مستقبل کے حوالے سے سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اہم نوعیت کے فیصلے کرنے جارہا ہے جن میں قوی امکان ہے کہ بہت بڑی تعداد میں مدارس کو مستقبل میں ختم کردیاجائے اور اس ضمن میں نیکٹا وفاق المدارس کے ساتھ مل کر ایک جامع اور مربوط حکمت عملی بنانے میں مصروف ہے۔