سپریم کورٹ نے عائشہ گلالئی کی نااہلی سے متعلق عمران خان کی درخواست خارج کر دی

15 مارچ 2018

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ آف پاکستان نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے عائشہ گلالئی کو نااہل قرار دینے کی درخواست خارج کردی ، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار نے تسلیم کیا تحریری استعفیٰ نہیں دیا گیا، سیاسی لوگ ایسے سیاسی بیانات دیتے رہتے ہیں،مخصوص وقت تک استعفا دے کر واپس بھی لیاجاسکتاہے۔ بروز بدھ عائشہ گلالئی کی نااہلی سے متعلق عمران خان کی درخواست پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے وکیل سے استفسار کیا کہ بتائیں نااہلی کس بنیاد پر چاہتے ہیں، جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ عائشہ گلالئی نے پارٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا، عائشہ گلالئی پرآرٹیکل 63کااطلاق ہوتاہے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ عائشہ گلالئی کی طرح شیخ رشید نے بھی کہا تھا کہ وہ مستعفی ہو رہے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی لوگ ایسے سیاسی بیانات دیتے رہتے ہیں،عمران خان کے وکیل نے کہا کہ عائشہ گلالئی نے پارٹی ہدایات کے مطابق وزارت عظمیٰ کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان نے خود ووٹ کاسٹ کیا تھا؟، جس پر بتایا گیا کہ عمران خان ووٹنک کے وقت شہر میں موجود نہیں تھے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہو سکتا ہے عائشہ گلالئی بھی شہر سے باہر ہو،عمران خان کے وکیل نے بتایا کہ عائشہ گلالئی کا تحریری استعفیٰ نہیں آیا، چیف جسٹس نے کہا کہ مخصوص وقت تک استعفیٰ دے کر واپس بھی لیاجاسکتاہے،بعدازاں عدالت نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف دائر عمران خان کی اپیل مسترد کر تے ہوئے خارج کردی۔