سپریم کورٹ نے اسلام آباد انتظامیہ کو چائلڈ لیبر مافیا کیخلاف کارروائی کا حکم دیدیا

15 مارچ 2018

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ آف پاکستان میں وفاقی دارالحکومت کے ایڈیشنل جج کے گھر کمسن ملازمہ طیبہ پر مبینہ تشدد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد میں چائلڈ لیبر عروج پر ہے، بچوں کے ساتھ بہت برا سلوک کیا جا رہا ہے، قانون سازی عدالت نے نہیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کرنی ہے، معصوم بچوں کو ٹیکا لگا کر سارا دن بھیک مانگنے کے لیئے سڑکوں پر بٹھا دیا جاتا ہے،بڑا ہو کر ایسا بچہ کیسا شہری بنے گا، معصوم بچوں پر اس ظلم کو روکنا پورے معاشرے کا فرض ہے، بچوں کے ساتھ ظلم کرنے والے مافیا کیخلاف کریک ڈاون کیا جائے ،عدالت عظمیٰ نے کمسن بچوں سے ملازمت اور ان پر تشدد کے واقعات کی روک تھام کیلئے حکومت سے ایک ہفتے میں تجاویز طلب کر لیں،اسلام آباد انتظامیہ سے چائلڈ لیبر میں ملوث مافیا کے خلاف کارروائی کرکے ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ بروز بدھ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس کی سماعت کی تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ممکن ہے طیبہ تشدد کیس کا ٹرائل چند روز میں مکمل ہو جائے گا، ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے کیا کرنا چاہیے، کمسن بچوں کی ملازمت اور ان پر تشدد کے سدباب کیلئے قانون سازی ہونی چاہیے،جو عدالت نہیں، وفاقی یا صوبائی سطح پر ہو سکتی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ مری میں بچے کھلونے بیچنے اور بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، پیرسوہاوہ اور پیرودھائی میں بھی چائلڈ لیبر عروج پر ہے، بچوں کے ساتھ بہت براسلوک ہورہاہے، علم ایسے بچوں کا بھی بنیادی حق ہے تعلیم فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو ہدایت دیتے ہوئے کہا بچوں کے ساتھ ظلم کرنے والے مافیہ کیخلاف کریک ڈان کریں،اسلام آباد میں پیر ودھائی اور سبزی منڈی کے علاقوں میں دیکھ لیں کیا کچھ ہو رہا ہے، مری میں بچے کھلونے بیچنے اور بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، بچوں کے ساتھ بہت براسلوک ہورہاہے، پیرسوہاوہ اور پیرودھائی میں بھی چائلڈ لیبر عروج پر ہے، سماعت کے دوران سماجی کارکن نے کہا بچوں کی ملازمت سے ان کا مستقبل تباہ ہوجاتاہے ،بچوں سے متعلق قوانین پر عمل ہوناچاہیے ،معاملے پر سفارشات پیش کی ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ طاہرہ عبداللہ کی تجاویز اٹارنی جنرل کودے رہے ہیں، حکومت ان تجاویز پر رائے دے، اٹارنی جنرل اور متعلقہ سیکرٹری سے بھی رائے لیں گے،زمرد خان نے کہا چائلڈ لیبر میں بچوں کے والدین اور پورا معاشرہ شامل ہیں،لاوارث اور یتیم بچے ملک کاسب سے بڑامسئلہ ہیں، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ کچہری میں ٹیکسیوں پر بچوں کوبھیک مانگنے کیلئے لایاجاتاہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو معلومات ہیں توکاروائی کریں، اسلام آباد انتظامیہ ایک ہفتے میں اس مافیا کوختم کرے بعدازاں طیبہ تشدد کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی۔