نقیب قتل کیس : پیشرفت نہیں ہوئی راﺅ انوار کی سی سی ٹی وی ویڈیو بریفنگ لی جائے : سپریم کورٹ

15 مارچ 2018

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نقیب اللہ قتل از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کیس میں رپورٹس آرہی ہیں لیکن کوئی پیشرفت نہیں ہے۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں نقیب اللہ محسود قتل ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ راﺅانوار کا ایک اور خط آیاہے ¾معلوم نہیں یہ خط اصلی ہے یانقلی، خط کو فائل میں رکھوا دیا ہے ¾ راﺅ انوار کہتے ہیں ان کے بینک اکاو¿نٹس کھول دیں۔ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے عدالت کو بتایا کہ سکیورٹی اداروں کے مطابق تمام مشتبہ افرادنے موبائل نمبر بند کردیئے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ آرہی ہے لیکن پیش رفت نہیں۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئی ایس آئی کے مطابق سندھ پولیس کوتکنیکی معاونت فراہم کررہے ہیں۔ ایم آئی کے مطابق ان کے پاس ٹیکنیکل معاونت کے ذرائع محدود ہیں۔ ایم آئی کے مطابق وہ پولیس سے تعاون کررہے ہیں۔چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ کہ کیا ایم آئی اور آئی ایس آئی آپ کی معاونت کررہی ہے؟ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بتایا کہ دونوں سیکیورٹی ادارے معاونت کررہے ہیں۔آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کاچالان داخل کردیا اور پہلی ایف آئی آر منسوخ کردی ہے۔نقیب اللہ کے وکیل فیصل صدیقی نے اپنے دلائل میں کہا کہ کیس میں 24 ملزمان ہیں ابھی تک 10لوگ گرفتار ہوئے ہیں۔ریاست کی اتھارٹی پرسوال اٹھ رہے ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست کی اتھارٹی کا سوال بہت اہم ہے ۔ آئی جی سندھ نے بتایا کہ اب تک 12ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں باقی ملزمان کی گرفتاری کی کوشش کررہے ہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ظاہر ہے کوئی نہ کوئی ملزمان کوشیلٹر فراہم کررہا ہے۔ کیا شرپسند انہیں تحفظ فراہم کررہے ہیں؟ عدالت نے آئی جی سندھ کو راو¿ انوار کی کراچی اور اسلام آباد میں سی سی ٹی وی ویڈیو پر بریفنگ کا حکم دیا اور آئندہ سماعت پر ڈی جی ائیر پورٹس سکیورٹی کو بھی طلب کرلیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سی سی ٹی وی پر بریفنگ ان کیمرہ ہوگی۔ ہوسکتاہے سی سی ٹی وی ویڈیو سے مدد مل جائے ہم وہ دیکھناچاہتے ہیں۔جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ کیا راو¿انوار سیاسی پناہ میں نہیں ہے؟ آئی جی نے کہا بطور ذمہ دار آفیسرایسا نہیں کہہ سکتاکہ راو¿ انوار سیاسی پناہ میں ہے، راو¿انوار ہمارے صوبے میں نہیں ہے۔ ان کی آخری لوکیشن بھیرہ تھی۔بعد ازاں چیف جسٹس نے کیس کی مزید سماعت 16 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت کراچی میں ہوگی۔
بریفنگ

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...