جماعت اسلامی کا سیو یونیورسٹیز سیو ایجوکیشن مہم چلانے کا اعلان

15 مارچ 2018

کراچی (نیو ز رپو رٹر) جما عت اسلا می کراچی کے امیر حا فظ نعیم الر حمن نے یو نیورسٹی بل کو مسترد کر تے ہو ئے اعلا ن کیا ہے کہ چانسلر کے اختیارات گورنر سے وزیر اعلیٰ کو منتقل کر نے کے فیصلے کے خلاف بھر پور آواز بلندکی جائے گی ، فیصلے کے خلاف سدیو یو نیو رسٹیز کنو نشن منعقد کیا جا ئے گا ، سیو یو نیو رسٹیز سیو ایجو کیشن مہم چلا ئے جا ئے گی ، تما م تعلیم دوست قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے گا ، آئین کی بنیا دی روح کے منافی اس فیصلے کے خلا ف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا یا جا ئے گا ، سندھ کے عوام کے لئے تعلیمی چارٹر آف ڈیما نڈ پیش کر یں گے ، سندھ کی جا معات کو ان کی گرانٹ فوری طور جا ری کی جا ئیں اور ا ٓمرانہ طرز عمل پر قائم سندیکٹ کی نئی تشکیل کو ختم کر کے طلبا ءکالج پر نسپلز اور کا لج اسا تذہ کو 1972 کے ایکٹ کے مطا بق سنڈیکٹ میں نما ئندگی دی جا ئے ،فیصلہ فی الفور واپس لیا جا ئے ، گورنر سندھ اس کی منظوری نہ دیں ۔ ان خیا لات کا اظہار انہو ں نے ادارہ نو رحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔ پر یس کانفرنس سے نا ئب امیر کراچی ڈاکٹر اسا مہ رضی نے بھی خطا ب کیا ۔ اس مو قع پر نا ئب امیر کراچی بر جیس احمد ، ڈپٹی سیکر یٹر ی کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ ، سیکر یٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی مو جو د تھے ،۔ حافظ نعیم الر حمن نے خطا ب کر تے ہوئے مزید کہا کہ سندھ حکو مت نے اپنی عددی اکثریت کی بنیا د پر یو نیو رسٹی بل منظور کیاہے۔ جس پر عوامی حلقوں ، اسا تذہ اور طلباءکی جا نب سے شدید احتجا ج کیا جارہا ہے ۔ ہم اس احتجا ج میں سندھ کے اسا تذہ اور طلباءکے ساتھ ہیں ۔ اس بل کی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ جماعت اسلامی بھی اس بل کو مسترد کر تی ہے ۔ جا معات کی خو د مختاری پر کسی صورت سمجھو تہ نہیں کیا جا سکتا ۔انہو ں نے کہا کہ گورنر کی جگہ وزیر اعلیٰ کے پا س چانسلر کے اختیارات ،جا معات کے وائس چانسلر ز ،پر وائس چانسلر ز کے تقرر کے اختیارات منتقل کر نا تعلیم دشمن اقدام ہے ۔ سندھ میں پہلے ہی تعلیم کا معیار مسلسل گر رہا
ہے ۔ اس اقدام سے تعلیم اور اس کا معیار مز ید گر جائے گا ۔ حافظ نعیم الر حمن نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی جا نب سے اکثریت کی بنیا د پر یہ فیصلہ سندھ میں میر ٹ اور صلا حیت کا قتل کر نے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطا لبہ کیا کہ جا معات آمرانہ طرز عمل پر قائم سنڈیکٹ کی نئی تشکیل کو ختم کر کے طلبا ءکا لج اسا تذہ کو1972 کے ایکٹ کے مطابق سندیکٹ میں نما ئندگی دی جا ئے ۔