پاک ایران تعلقات اور مغربی ایشیائی ممالک کا امن

15 مارچ 2018

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف ان دنوں پاکستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ اس دوران انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ سے امن و سلامتی، دہشت گردی کے سدباب اور اقتصادی تعاون کے منصوبوں سمیت باہمی مفادات کے موضوعات پر مثبت اور مفید مذاکرات کئے ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو اور پھر تقریب سے خطاب کے دوران بتایا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن ہماری طرف سے مکمل ہے، اگلا مرحلہ پاکستان نے مکمل کرنا ہے، ایرانی وزیر خارجہ نے سی پیک منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ گوادر، چاہ بہار کو آپس میں منسلک کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پیش کش کی کہ ایرانی بنک پاکستان میں برانچیں کھولنے کے لئے تیار ہیں۔ جناب جواد ظریف نے یہ بھی بتایا کہ کلبھوشن یادیو کے بارے میں ایران کے پاس جتنی معلومات تھیں انہیں پاکستان کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں زور دے کر کہا کہ ان کا ملک پاکستان سے دوستی نبھائے گا۔
ایران پاکستان کا ہمسایہ، برادر اسلامی ملک ہے، کہنے کو افغانستان کے ساتھ بھی ہمارا وہی رشتہ ہے، لیکن کابل کے برعکس تہران پاکستان کے لئے کبھی بھی پرابلم نہیں بنا۔ ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ اس کی قیادت نے پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے اگر مگر کی زبان کبھی استعمال نہیں کی۔ کچھ عرصہ قبل صدر حسن روحانی نے بھارت کا دورہ کیا، اس کے بعد وہ کچھ دیر کے لئے اسلام آباد بھی رکے، اس موقعہ پر انہوں نے ایک سوال کے جواب میں صاف صاف کہا تھا کہ بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں، وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی گزشتہ روز اسلام آباد میں، ایران کے خارجہ تعلقات کے ضمن میں ایک سوال کے جواب میں واضح کہا کہ بھارت کے ساتھ ہمارے گہرے دوستانہ تعلقات ہیں اور وہ ہمارے فائدے میں ہیں اور ایران یہ کہنے میں حق بجانب بھی ہے اس لئے کہ امریکہ اور مغربی ملکوں کی پابندیوں کے باوجود بھارت نہ صرف ایران سے تیل خریدتا رہا بلکہ اس کے ساتھ تجارتی تعلقات بھی قائم رکھے ۔اس کے برعکس ہم توانائی کے بحران سے دوچارہو کر ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتے رہے، لیکن پاکستان ایران گیس پائپ لائن کو امریکی ’’ناراضگی‘‘ کے خوف سے مکمل کرنے سے گریز کیا۔ ایرانی روئیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہمارے قریب آنا، غلط فہمیاں دور کرنا اور ترقیاتی اور اقتصادی تعاون کے منصوبوں میں اشتراک کرنا چاہتا ہے البتہ ہمارے دوستوں کو یہ بھی ادراک ہونا چاہئے کہ امن کا دارومدار مغربی ایشیائی ممالک کے تعاون میں مضمر ہے۔ بھارت ہزار کلو میٹر دور ہو کر ایران کی مضبوط معیشت سے استفادہ کر رہا ہے اور ہم ایک فٹ کا فاصلہ نہ ہونے کے باوجود قریبی تعلقات کی برکات سے محروم ہیں۔ خارجہ پالیسی کے معماروں کو پاک ایران تعلقات میں موجود دراڑوں کو پُر کرنے کے لئے ٹھوس اور جامع اقدامات کرنے چاہئیں۔ کوئی بعید نہیں کہ ایسے قریبی تعلقات آگے چل کر مسئلہ کشمیر کے حل میں بھی معاون ثابت ہو سکیں۔