امریکہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرائے

15 مارچ 2018

پاکستان کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔ کچھ طالبان افغان حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ جم میٹس۔ امریکی وزیر دفاع کا غیر اعلانیہ دورہ کابل۔ پاک فوج کے آپریشز مدد گار ثابت ہو رہے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع کی افغانستان کے صدر اشرف غنی اور امریکی فوج کے سینئر کمانڈروں سے ملاقات۔
امریکی وزیر دفاع نے اپنے غیر اعلانیہ دورہ کابل میں اپنی فوج کے سینئر کمانڈوں اور افغان صدر سے ملاقات میں کہا کہ کچھ طالبان حکومت افغانستان سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو یہ ایک مثبت اشارہ ہے۔ تباہ حال افغانستان میں امن کا عمل شروع کرنے کیلئے افغان حکومت اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا۔ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی نیٹو ممالک طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مصالحت کار کا کردار ادا کریں تو افغانستان میں امن کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت پر زور دیا ہے۔ اب امریکی وزیر دفاع کے بقول پاکستانی روئیے میں بہتری آئی ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف پاک افواج کے آپریشن موثر اور مدد گار ثابت ہو رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ملک بھر میں دہشت گردوں کے بچے کھچے ٹھکانوں اور دہشت گردوں کو ختم کیا جارہا ہے۔ گزشتہ روز بھی کراچی میں ایسے ہی آپریشن میں پانچ خطرناک دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ دہشت گرد اب پاکستان میں نہیں افغانستان میں اپنے محفوظ ٹھکانوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ اسلئے امریکہ اسکے اتحادی اور افغان حکومت اپنے علاقے میں موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنے کے لئے آپریشن کرے تاکہ اس خطے میں مستقل قیام امن کی راہ ہموار ہو۔