قرابت داری کا لحاظ

15 مارچ 2018

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان فرماتے ہیں : حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب لوگوں (قریش مکہ)کی (دین میں )روگردانی دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاکی: اے اللہ تعالیٰ ! ان کو حضرت یوسف علیہ السلام کے سات سالہ قحط کی طرح قحط میں مبتلا فرما۔ ان کو شدید قحط نے آلیا جس نے ہرچیز کو ختم کردیا حتیٰ کہ وہ بھوک کی شدت کی وجہ سے کھالیں اورمردار کھانے پر مجبور ہوگئے۔ آدمی آسمان کی طرف نظر اٹھا تا تواسے دھواں سادکھائی دیتا۔ ابوسفیان حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کیا: اے محمد(صلی اللہ علیک وسلم)! آپ ، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اورصلہ رحمی کی تعلیم دینے آئے ہیں، آپ کی قوم توبرباد ہوتی جارہی ہے، آپ ان کے لیے دعاکریں۔ (صحیح مسلم)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاکی: اے اللہ تعالیٰ! تو نے پہلے زمانے کے قریش کو مبتلائے عذاب کیا، بعدمیں آنے والے قریش کو اپنی نعمتوں سے نواز۔(جامع ترمذی)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں : نبی محتشم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے چچا)حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جب پیر کی صبح ہوتو آپ اورآپ کے بچے میرے پاس آئیں تاکہ میں ان کے لیے ایسی دعاکروں جس سے اللہ تعالیٰ آ پ کو اورآپ کے بچوں کو فائدہ پہنچائے ، لہٰذا (مذکور صبح کو)ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے اوپر ایک کپڑا ڈال دیا اوردعاکی: اے اللہ تعالیٰ ! عباس اوران کے بچوں کی مغفرت فرما۔ایسی مغفرت جو ظاہر بھی ہواورباطن بھی ہو اورجو کسی گناہ کو باقی نہ چھوڑے ۔ اے اللہ تعالیٰ ! ان کی ان کے بچوں کے معاملات میں حفاظت فرما۔(جامع ترمذی)
(حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی چچا زاد بہن)حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:میں فتح مکہ کے سال حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرمارہے تھے اور آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کو پردہ کیے ہوئے تھیں، میںنے سلام عرض کیا توحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے عرض کیا: ام ہانی بنت ابی طالب ہوں ، آپ نے فرمایا: ام ہانی کو خو ش آمدید ، جب آپ غسل سے فارغ ہو گئے تو آپ اُٹھ کھڑے ہوئے اورآپ نے ایک ہی کپڑا لپیٹ کر آٹھ رکعتیں اداکیں، میںنے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیک وسلم)! میرے ماں جائے (بھائی) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ اس شخص کو قتل کردیں گے جس کو میںنے پناہ دی ہے اوروہ ہبیرہ کا فلاں بیٹا ہے ، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا : ام ہانی ! جس کو تو نے پناہ دی ہے اس کو ہم نے بھی پناہ دی ہے۔ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:یہ چاشت کے وقت کی بات ہے۔(صحیح بخاری)