جمعرات ‘ 26؍ جمادی الثانی 1439 ھ ‘ 15؍ مارچ 2018ء

15 مارچ 2018

میاں شہباز شریف کے صدر بننے پر مسلم لیگ ن کے کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
اس لہر کے دوڑنے کا تو کافی عرصے سے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو انتظار تھا۔ طرح طرح کے وسوسوں اور افواہوں کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ کے ریٹ کی طرح کبھی یہ خبر اتار کا شکار ہوتی اور کبھی چڑھائو کا، بالاخر تمام نفسیاتی حدیں عبور کرتے ہوئے آ ہی گئی اور عوامی اعتماد بحال ہو گیا۔ کہیں مٹھائی بانٹی گئی، کہیں ڈھول کی تھاپ پر رقص ہوا۔ مبارک سلامت تو اس موقع پر عام ہے۔ ویسے بھی اس وقت مسلم لیگ ن کو ایک ایسے ہی پرجوش لیڈر کی ضرورت تھی جو اپنی کامیابیوں کو کیش کرا کے الیکشن میں عوام کا دل جیت سکے۔ سو وزیراعلیٰ پنجاب سے بہتر شخصیت بھلا اور کون ہو سکتی ہے جنہیں پنجاب کے بدلتے ہوئے نئے رنگ کا نقیب کہا جا سکتا ہے۔ وہ متحرک بھی ہیں اور متحرک کرنا بھی جانتے ہیں۔ اب اگر مسئلہ ہے تو ان لوگوں کا ہے جو مسلم لیگ ن میں انتشار پھیلانے اور دھڑے بندی کے رنگین خواب دیکھ رہے تھے جو یکلخت چکناچور ہو گئے ورنہ بہت سے کبک اور چکور خود کو شہباز ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ انتشار کی صورت میں نجانے کتنے باز شہباز اور شاہین مسلم لیگ ن سے پرواز کرتے نظر آتے مگر افسوس ایسا سوچنے والے یہ سب کچھ نہ دیکھ سکے تاہم اب بھی امید پر دنیا قائم ہے! کوئی بھی نئی چال چلی جا سکتی ہے!
٭٭٭٭
گجرات میں خطاب کے دوران عمران خان پر جوتا اچھال دیا گیا جو علیم خان کو جا لگا
بالاخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا، اب تو یہ جوتا باری برفباری اور ژالہ باری کی طرح ہونے لگی ہے، شاید ہی کوئی اب اس سے بچ پائے گا گزشتہ دو روز میں عمران خان کو 3 بار نشانہ بنایا گیا جو خاصی شرمناک بات ہے۔ ایسے فعل بد کی اجازت کسی کو نہیں ملنی چاہئے۔ ہر انسان کی عزت ہوتی ہے۔ کسی کو توہین کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اب خان صاحب کی قسمت اچھی تھی کہ ان کی بجائے یہ جوتا ٹھاہ کر کے علیم خان کے سینے پر جا لگا۔ ایک لمحے کو تو وہ بھی چونک گئے کہ یہ کیا ہوا ہے۔ پھر دل ہی دل میں اس کم بخت کو کوستے رہے ہوں گے جس کا نشانہ چوک گیا… خان صاحب بچ گئے اور بے گناہ علیم خان زد میں آ گئے۔ اس طرح ایک اور واردات میں ایک خاتون نشانہ بنی تھی۔ اس حملے پر عمران خان معلوم نہیں برا مان گئے یا خوفزدہ ہو گئے کہ گاڑی پر سے خطاب ادھورا چھوڑ کر نیچے اتر کر گاڑی میں دبک گئے۔ اب ظاہر ہے اس کے بعد جوتا پھینکنے والے کا جو حشر کارکنوں نے کیا ہو گا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ اسی لئے سب رواداری اور برداشت کی تلقین کرتے ہیں۔ اب یہ سلسلہ ختم ہو جانا چاہئے۔ یہ نہ ہو کہ حملہ آور باقی بچ جانے والوں کی فہرست لے کر بیٹھے ہوں۔سب سیاستدان اس کی مذمت کر رہے ہیں جو اچھی بات ہے۔ کارکن بھی اس پر عمل کریں۔
٭٭٭٭
سینٹ میں صادق آ گیا ’’وہ‘‘ چاہیں گے تو اسمبلی میں امین بھی آ جائے گا: حافظ حسین احمد
مولانا کی بات تو سو فیصد درست معلوم ہوتی ہے۔ اس طرح پھر تمام آئینی تقاضے بھی پورے ہوں گے اور راوی چین ہی چین لکھے گا۔ اس وقت ہمارے ملک کو صادق اور امین کی جتنی ضرورت ہے اس سے پہلے شاید کبھی نہیں رہی ہو گی۔ سچ کہیں تو لگتا ہے پہلے سارے ادوار صداقت و امانت کے ساتھ ساتھ دیانت سے بھی بھرے ہوئے تھے۔ یہ بددیانتی، کرپشن، بے ایمانی، آج کل ہی دیکھتے ہی دیکھتے چھا گئی ہے۔ سو اس کا قلع قمع کرنے کیلئے ملک بھر میں صادق اور امین ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ بس بات صرف اتنی سی ہے کہ یہ امین اور صادق تلاش کرنے والوں کے معیار پر پورے اترتے ہوں، ان الفاظ کے لغوی معنوں پر پورا اترنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حافظ حسین احمد بھی اس بات کا ذکر کر رہے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ ڈر بھی رہے ہیں کہ کہیں اسمبلی میں کوئی میر جعفر اور میر صادق نہ آ جائے۔ بھلا اس سے کیا ہو گا۔ آخر ان کے نام میں بھی تو صادق آتا ہے۔ سو وہ بھی چل جائیں گے۔ ہمارے ہاں کھوٹے سکوں کو چلانے کا کاروبار اسی وجہ سے تو کبھی مندا نہیں پڑتا۔ یہاں تو چام کے سکے بھی چلتے رہے ہیں۔ اس وقت تو ویسے ہی بقول شاعر طرحدار شارق کیفی کے الفاظ میں…
جوش میں ہیں اس قدر تیماردار
ٹھیک ہوتے شرم آتی ہے مجھے
٭٭٭٭
مجھ پر گالیاں دینے اور 21 کروڑ لینے کا الزام غلط ہے: خادم حسین رضوی
مولانا کی اس بات پر اب وہ ہزاروں شریک دھرنا کیا کہیں گے جنہوں نے مولانا کی طرف سے بلند ہونے والی ہر گالی پر جی کھول کر نعرے لگائے، تالیاں بجائیں اور داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے تھے، آج مولانا انہی مقبول عام الفاظ سے انکاری ہو رہے ہیں جو صفحہ قرطاس پر ہی نہیں ہوا کے دوش پر سفر کرتے نشریاتی اداروں کے ریکارڈ میں بھی محفوظ ہیں۔ ویسے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مولانا ان سوقیانہ الفاظ کو گالی ہی نہ سمجھتے ہوں! ویسے بھی ہمارے ہاں ان الفاظ کا چلن عام سا ہو گیا ہے، اب اسے معاشرتی زوال کہیں یا بدزبانی کی انتہا، بات بات پر سوقیانہ الفاظ کا استعمال عام ہو گیا ہے، کیا عالم کیا جاہل بہت سے لوگ اس رنگ میں رنگے گئے ہیں۔ بس جبہ و دستار والوں کے منہ سے ایسے الفاظ زیب نہیں دیتے۔ عام آدمی کی تو بات چھوڑیں اس پر ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا مگر وارثان منبر و محراب کی تو بات ہی اور ہوتی ہے۔ اب یہ گالیاں تو پکڑی جا سکتی ہیں مگر یہ جو 21 کروڑ کا چکر ہے اس بارے میں فی الحال دینے والا ہی جانے یا لینے والا… کسی اور فریق کو تو ہوا بھی نہیں لگی ہو گی کیونکہ لین دین لینے اور دینے والے کے درمیان ہوتا ہے۔ سو جب تک دونوں میں دوستی چلتی ہے معاملہ ٹھپ سمجھیں، ہاں کچھ گڑبڑ ہوئی تو ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹ سکتی ہے!