عدم برداشت اور جوتوں کی برسات

15 مارچ 2018

گزشتہ چند دنوں میں جوتے، سیاہی پھینکنے، ہلڑ بازی اور جلسوں میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی جیسے واقعات کی جو لہر چلی تو یقین مانیں اس پر دل بہت افسردہ ہوا، افسردہ اس لیے نہیں کہ ان سیاستدانوں کی عزت و توقیر میں کوئی فرق آ گیا بلکہ اس لیے ہوا کہ ان واقعات سے پوری دنیا میں وطن عزیز کی بدنامی ہوئی۔ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں قوم کو اس قدرمنقسم پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ حالات خراب سے خراب تر بھی ہوتے گئے مگر کسی نے ان سیاستدانوں کو نہ پوچھا ، پھر عوام نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے کوئی نہ کوئی طریقہ تو اختیار کرنا ہی تھا اور پھر جولائی 2017ء کے بعد میاں نواز شریف نے جس قدر اداروں کی بے توقیری کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ظاہر ہے جو بیج ماضی میں بویا گیا، اسے ہی کاٹاجائے گا… ماضی میں نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر بے نظیر کے خلاف حکومت گرانے کا کام کیا، سیاست میں روپے پیسوں کی ریل پیل کے نئے نئے ’’ٹرینڈ‘‘ متعارف کروائے ۔ اور اگر کسی کے ساتھ سیاسی اختلافات پیدا ہوئے تو ایسا سبق سکھایا کہ اس کی نسلوں کو بھی نانی یاد آ گئی۔ پھر جب حالیہ دور حکومت میں دھرنوں کے دوران حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہوئیں تو نواز شریف کو زرداری صاحب یاد آ گئے جنہوں نے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا اور بعد میں زرداری صاحب جب دبئی میں چند ماہ کی خود ساختہ جلاوطنی کاٹ رہے تھے تو انہیں انٹرویو کے دوران ایک سینئر صحافی نے پوچھا کہ آپ اس قدر بوجھل کیوں ہیں تو وہ کہنے لگے کہ نواز شریف نے ان کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ نواز شریف نے حالات سنبھلنے کے بعد پیپلز پارٹی کے خلاف کراچی میں بہت سے اقدامات کئے۔
آج سیاستدانوں پر جوتوں کی برسات اس لیے نہیں ہو رہی کہ عوام بھی ’’سازش‘‘ کا حصہ بنتے جا رہے ہیں، بلکہ اس لیے ہو رہی ہے کہ عوام کو اپنا ’’غصہ‘‘ اتارنے کے لیے یہی سب سے آسان طریقہ لگ رہا ہے۔ ناموس رسالت کے بل کا معاملہ ہو، انتخابی دھاندلیوں کا معاملہ ہو، بھارت کے ساتھ ذاتی مراسم بڑھانے کا معاملہ ہو، مغربی قوتوں کی کٹھ پتلیاں بننے کا معاملہ ہو، مہنگائی میں اضافے کا معاملہ ہو یا ٹیکسوں کی بھرمار کا معاملہ۔ عوام اپنا غصہ کس پر نکالیں؟ 10 سال پہلے شروع ہونے والی جوتا بازی کی اس غیرمہذب رسم سے قبل برطانیہ سمیت دیگر ملکوں میں عوام اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے والے ان لیڈروں پر انڈے یا ٹماٹر پھینکتے تھے کسی پر جوتا پھینکنا انتہائی ذلت آمیز اور قبیح حرکت سمجھی جاتی تھی اورپھر برصغیر میں تو جوتا مارنا تحقیر کے زمرے میں آتا ہے یہی وجہ ہے کہ نواز شریف پر جوتا پھینکنے کے واقعہ پر ملک کے سبھی چوٹی کے لیڈروں نے اظہار افسوس کرتے ہوئے اس روئیے کی مذمت کی ہے یقیناً اس حقیقت کا بھی احساس ہوگا کہ آج ان کی تو کل ہماری باری بھی ا ٓسکتی ہے۔
بہرکیف اگر ماضی میں نواز شریف کی سیاسی مخالفت محترمہ بے نظیر کے ساتھ تھی تو آج وہی اختلاف عمران خان کے ساتھ ہے، سیاست میں اختلاف ہونا اچھی بات ہے مگر سیاست کو عبادت سمجھ کر کسی سے اختلاف کیا جائے نہ کہ اس بات پر اختلاف کیا جائے نہ کہ فلاں شخص کہیں اقتدار میں نہ آ جائے۔ حقیقت میں برداشت اور عدم برداشت کے درمیان سب سے بڑا فرق تعلیم و تربیت کا ہے، اور یہاں تعلیم ہی وہ شے ہے جس کے بارے میں تمام سیاستدان متفق ہیں کہ یہ ’’نہیں‘‘ ہونی چاہیے۔ کیو ں کہ اس کے نہ ہونے میں ہی ان سیاستدانوں کی فلاح ہے، ورنہ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک، اسلامی دنیا کا اہم ترین ملک، پہلی ایٹمی اسلامی طاقت، دنیا میںدسویں بڑی فوج رکھنے والا قدرتی نعمتوں سے مالامال ملک تعلیم کے حوالے سے 160ویں نمبر پر اور صحت کے حوالے سے 131ویں نمبر پر نہ ہوتا۔ آج ہمارے سیاستدانوں کو مجمعے میں جوتے پڑنے اور بدتمیزی کرنے کی بڑی وجہ جہالت ہے، اور یہ جہالت کسی اور نے پیدا نہیں کی بلکہ ان سیاستدانوں کی مرہون منت ہے۔
کیا کبھی کسی سیاستدان نے اس بات پر بھی غور کیا کہ اس وقت ملک کے 2 کروڑ بچے سکول ہی نہیں جاتے اور جب یہ بچے بڑے ہوں گے اور عقل و شعور ہی نہیں رکھیں گے تو ان سے ملک کی بھلائی کی کون اُمید رکھے گا؟ یہ کیسے ملک کے لیے کارآمد بنیں گے؟ یہ بے روزگار پھریں گے، یہ چھوٹی موٹی چوریاں کرکے اپنا پیٹ پالیں گے اور پھر جب ان کو ان چوریوںکی لت پڑ جائے گی تو یہ بڑی وارداتیں کریں گے اور ’’مارکیٹ‘‘ میں اپنا نام بنائیں گے اور پھر ان میں سے چند ایک تو سیاسی جماعتوں کاحصہ بن کر ملک کی خدمت کریں گے، جعلی ڈگریاں حاصل کرنے کے لیے حرام کی کمائی افسروں کو کھلائیں گے اور جب وزیر مشیر بنیں گے تو عوام کی خدمت تو ایک طرف لوٹ مار، قتل و غارت اور غداریوں جیسے کام ان کے لیے عام ہوں گے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ کے گھر کے بچے کسی سے بدتمیزی کریں اور آپ خوش ہوں اور پھر ایک دن ایسا آئے گا کہ وہ آپ سے بھی بدتمیزی کریں گے، یہی حال نواز شریف اور دوسرے سیاستدانوں کا ہوا ہے۔ اگر ناموس رسالت کو بنیاد بنا کر عام آدمی عدم برداشت کا دامن چھوڑ رہا ہے تو ان سیاستدانوں کو توجہ دینی چاہیے کہ اُن سے اور اُن کی نام نہاد پارلیمنٹ میں جہاں کھربوں کی بولیاں لگنے کے بعد ابھی تک گردوغبار اُٹھ رہا ہے کہیں نہ کہیں تو کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے کہ عوام ان سے اس قدر نفرت کرنے لگے ہیں۔ اور اس کا فائدہ مذہبی جماعتیں اُٹھا رہی ہیں۔
آج چیف جسٹس چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ حکمرانوں نے تعلیم اور صحت پر 10سال ہوگئے کوئی توجہ نہیں دی۔ چیف جسٹس نے درست فرمایا کہ حکومتیں ان چیزوں کی تشہیر بھی کریں جن میں یہ ناکام رہیں۔ اور انہیں اشتہارات میں عوام سے معافی بھی مانگنی چاہیے تاکہ انہیں اس بات کی فکر لاحق ہو کہ انہیں یہ کام کرنا ہے۔
کیا موجودہ حکومت نے یہ حقائق بھی کبھی شائع کیے کہ وہ جب اقتدار میں آئی تو 900افراد کے لیے ایک ڈاکٹر موجود تھا اور آج یہ تعداد بڑھ کر 1400افراد فی ڈاکٹر ہو چکی ہے؟ 2013ء میں اکنامک سروے کے مطابق 1000 نوزائیدہ بچوں میں 66 بچے اپنی پیدائش کے فورًا بعد مر جاتے تھے ۔آج یہ شرح 100تک پہنچ چکی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ حکمران گورننس کے نام پر صرف نوٹنکیاں چلاتے اور مختلف قسم کے ڈرامے رچاتے ہیں جس کے نتیجہ میں پورا معاشرہ مکمل زوال کی لپیٹ میں ہے اور کوئی شے اپنی جگہ پر قائم یا موجود نہیں رہی۔ اک عجیب قسم کی مار دھاڑ، افراتفری، طوائف الملوکی ، چھینا جھپٹی کا دور دورہ ہے۔
جو لیڈر اپنے ملک کے بارے میں نہیں سوچتا اسے اس ملک میں رہنے کا بھی کوئی حق نہیں، آج ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ برداشت کا سبق اپنی ذات سے شروع کیا جائے تو یہ جوتوں کی برسات خود بخود رک جائے گی!!!