اقتدار کی نئی تکون اور عدلیہ

15 مارچ 2018

متحرک عدلیہ پاکستان کے دستور کی محافظ بن کر ابھری ہے جس کے بعد اقتدار کی روایتی تکون درہم برہم ہوگئی ہے قوتِ عاملہ نہ ہونے کی وجہ سے عدلیہ کو عضو معطل بنا دیا گیا تھا۔ اب عسکری وضاحت نے عدلیہ کو محور بنادیا ہے ایوانِ بالا میں شکست کا گہرا گھاؤ بدحواس کر رہا ہے جناب نواز شریف کے آہنی اعصاب خود شکستگی کا شکار ہو رہے ہیں گذشتہ روز کنونشن سینٹر میں ان کی تقریر ہارے ہوئے سالار کی دُہائی نظر آ رہی تھی۔ ان کے پاس جانثار کارکن نہیں ہیں دودھ پینے والے مجنوں ہیں جو سٹرکوں پر نکلنے کے لئے تیار نہیں ہیں مار کھانے کا خیال انہیں پریشان کر دیتا ہے۔ دونوں سعادت مند صاحبزادے' حسن اور حسین "غیر جانبدار" رہ کر اپنی والدہ کی تیمارداری کرتے رہنا چاہتے ہیں اب وہ مئی کے گرم اور تلخ دنوں میں گرمئی بازار کے سپنے دیکھ رہے ہیں ۔ سینٹ میں گھمسان کے رن کے بعد جناب نواز شریف اور ریاستی اداروں کے درمیان کشمکش مزید بڑھ گئی ہے۔ بلوچستان سے پہلے چئیرمین سینٹ کا انتخاب اور اس سے منسلک ’گناہ وثواب‘ کا تمام تر ملبہ فوجی قیادت کے سر ڈالا جارہا ہے۔ نوازشریف کی ’بے باکی‘ کم ہونے کو نہیں آرہی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں مزید شدت ان کے اندر کے خلجان اور ’شدید کرب‘ کو واضح کررہی ہے۔ ’مجھے کیوں نکالا‘ کے غم کو قومی تحریک میں بدلنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے پر ذہنی طورپر تیار تھے لیکن اب انہوں نے ووٹ کی حرمت کو بحال کرنے کا علم اٹھا لیا۔
سینٹ انتخاب محض ایوان بالا کے کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش تک محدود نہیں اور ریاست سے برسرپیکار نوازشریف من پسند آئینی ترامیم کا راستہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔ ایوان بالا' قانون سازی کیلئے پارلیمان کااہم حصہ ہے لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ بے جان مسودے کے مردے میں جان اسی وقت پڑسکتی ہے جب قومی اسمبلی کے بعد سینٹ بھی منظوری کی پھونک ماردے۔سینٹ کی شکست فاش نے من مرضی کی قانون سازی اور آئینی ترامیم کا راستہ آئندہ 5 برس کے لئے روک دیا ہے جس کے بعد آئین کے بنیادی ڈھانچے کی اکھاڑ پچھاڑ کے سارے کے سارے خواب پریشان ہوچکے ہیں۔
اگر نوازشریف خدانخواستہ فاتح بن کر نکلتے تو سینٹ نیا میدان جنگ بن جاتا جس کے بعد ان کی راہ روکنا ناممکن ہوجاتااْن کے حوصلوں کو نئی اٹھان ملتی یہ ان کی سیاسی طاقت میں مزید اضافے کا نشان بن جاتا۔ الفاظ کی کشیدہ کاری سے وابستگان چیونٹی کو ہاتھی بنانے میں پرکار ہیں۔ ماضی ان کی اس جادوگری کا گواہ ہے۔ اب وہ سینٹ میں شکست کو سازش کا رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں فیصلہ سازی اور سیاسی کاریگری کو اپنی مظلومیت کا نوحہ بنانے پر جْت گئے ہیں۔ یہ فوج اور اس کی قیادت کے خلاف چارج شیٹ کی تیاری کا مرحلہ ہے جسے آمدہ انتخابی ہلے گلے میں پوری شدت سے پیش کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ استادی یہ کی جارہی ہے کہ سینٹ انتخاب میں ناکامی کو قوم پرستوں اور جمہوریت پسندوں کے گروہ کی طاقتور مخالف قوت سے ٹکراؤ کی کہانی بنایا جائے اور بتایا جائے کہ پاکستان میں خلیج کس قدر گہری ہورہی ہے۔ یہ چال مستقبل کے منصوبوں کی چغلی کھارہی ہے۔
نواز شریف کی کفش بردار حکمران اشرافیہ یہ بیانیہ تشکیل دے چکی ہے کہ دراصل ایک گمنام شخص صادق سنجرانی کو وفاق کی علامت ادارے کی قیادت سونپنے کا معاملہ محض اتفاق نہیں بلکہ سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہے۔ بلوچستان کی محرومی کو محض بہانے کے طورپر استعمال کیاگیا۔ منصوبے کے آغاز میں بلوچستان حکومت کی تبدیلی اور پھر سینیٹرز کا انتخاب اس کے مراحل تھے۔ انتہاء چیئرمین سینٹ کا انتخاب تھا۔ آزادگروپ کی تشکیل بھی اسی خاکے میں رنگ بھرنے کے لئے تھی۔یہ مشن کامیاب ہوچکا ہے۔ اس کامیابی کا ایک فوری نتیجہ تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں پر یکساں گرفت کی (ن) لیگ کی کوشش پِٹ گئی ہے۔ حکمران جماعت جس ایجنڈے کو تیار کئے بیٹھی ہے۔ اس پر عمل درآمد کے لئے سینٹ کو قابو میں رکھنا ناگزیر تقاضاتھا۔ یہاں (ن) لیگ مات کھاگئی۔ اس انتخاب نے گہری سیاسی تقسیم بھی عیاں کردی ہے۔ یہ آمدہ عام انتخابات کی پیشگی تصویر ہے۔ ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں سیاسی موسم کا کیارنگ ہوگا۔ گرج چمک، جھکڑ، طوفان اور ژالہ باری کی کیا کیفیت ہوگی۔ معاشرے میں اختلافی درجہ حرارت کس درجہ تک جاپہنچے گا۔
مسلم لیگ (ن) کے لئے سب سے بڑی سیاسی مشکل جماعت کا اتحاد برقرار رکھنا ہے۔ سینٹ میں شکست کے اثرات ابھی برآمد ہونے ہیں۔ بعض تجزیہ نگار یہ دعوی بھی کررہے ہیں کہ سینٹ میں حکمران جماعت کی شکست آشکارا ہوچکی ہے۔ سیاسی دیمک اس کے وجود کو بتدریج کھاتی چلی جائے گی۔ تجزیہ سے ہٹ کر حقیقت بہرحال یہ ہے کہ اب تک کوئی بڑی دراڑ نہیں پڑی اور بظاہر مجموعی طورپر جماعت متحد ہے۔ ٹوٹ پھوٹ کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ حکمران جماعت کے ہراول دستے میں شامل سواروں کی مقتدر اداروں پر یلغاربھی اس امر کا اظہار ہے کہ ابھی سپاہ شریف کا مورال زوال پذیر نہیں ہوا۔ دیکھاجائے تو معاملہ ’سردجنگ‘ کی حدوں سے نکل کر ’گرم جنگ‘ اور ’جھڑپوں‘ تک جاپہنچا ہے۔ زیادہ کھْلے اور واضح الفاظ سے نام لے کر گولہ باری جاری ہے۔عدلیہ خم ٹھونک کر میدان میں ہے۔ جنرل باجوہ پہلے ہی غیرمبہم انداز میں پیغام دے چکے ہیں کہ قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور ان کی قوت عدلیہ کے پلڑے میں ہے۔ اس پہلو سے یہ سوچ کشید کی گئی ہے کہ ملک میں طاقت کا ایک نیا محور وجود میں آچکا ہے۔ آئین میں اختیار کی تقسیم کی جو لکیر کھینچی گئی تھی، اس کی جگہ نئی حد بندی کا ظہور ہوچکا ہے۔یعنی انتظامیہ کی قوت اور کردار سْکڑ چکا ہے۔
سیاسی پنڈت برملا کہہ رہے ہیں کہ حالات کی بحرانی لہروں میں فوج ایک بار پھر ڈرائیونگ سیٹ پر آچکی ہے۔ جسے حکمران طبقہ عدلیہ سے گٹھ جوڑ سے تعبیر کرنے میں کوئی موقع ضائع نہیں جانے دے رہا۔ عدلیہ کے حوصلے پست کرنے کے لئے ’عدالتی انتہا پسندی‘ کی دْرفنطنی چھوڑی گئی ہے۔ حکمران اس تاثر کو مضبوط بنانے میں ایڑی چوٹی کا زور صرف کررہے ہیں کہ انتظامیہ ہی نہیں پارلیمان بھی ’مظلوم‘، ’بے بس‘، ’بے کس‘ اور ’لاوارث‘ بنادی گئی ہے۔ یہ باتیں وہ گھڑ رہے ہیں جو خود پارلیمان میں آنا اپنے لئے توہین سمجھتے تھے۔ سپیکرقومی اسمبلی سردار ایاز صادق وہ ’سنہری اکلوتی مثال‘ ہیں کہ اپنی حکومت کے وزرا کے روئیے پر واک آئوٹ کرگئے۔
عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلوں کو پارلیمان کی قانون سازی کی چادر کھینچنے کا نام دیاگیا۔ یہ الزام علاوہ ازیں ہے کہ ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن بگاڑا جاچکا ہے۔
اس سوال کا جواب حکمرانوں کے پاس کوئی نہیں کہ سول ادارے عضومعطل بن جائیں، حکومت کا وجود عملا مٹ جائے تو اس سے پیدا ہونے والے خلا کو کس نے پْر کرنا تھا۔ جب کابینہ کے اجلاس بھی شاہانہ مزاج کے محتاج ہوں۔ جب قومی اداروں کے اعلیٰ ترین مناصب خالی کرسیوں سے تقرریوں کو ترس رہے ہوں۔ جب جمہوری حقوق کا شہری مظاہرہ کرنے پر سڑکوں پر خون میں لت پت ہورہے ہوں۔ حکمران گلو بٹ کے وارث بن جائیں اور جب قومی مفادات کے بجائے امریکہ اور بھارت کی زبان بولی جارہی ہو۔ تو ’شریفانہ جمہوریت‘ کادرس یہ ہے کہ سب ’بی بے بچے‘ بن کر سرجھکا کر بیٹھے رہیں۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ پارلیمان کی ’نامردی‘ نے عدلیہ پر کام کا بوجھ بڑھادیا۔ انتظامی دروازے پیٹ پیٹ کر ہلکان ہوجانے والے سوالی پھر عدلیہ کے آگے جھولی نہ پھیلائیں تو کہاں جائیں؟
1990ء کی مثال دی جارہی ہے کہ اس وقت صدر اور فوج کا ایکا ہوا کرتا تھا۔ آج صدر کی جگہ عدلیہ نے لے لی ہے۔ سازگار حالات میں ٹرائیکا صدر، فوج اور وزیراعظم پر مشتمل ہواکرتا تھا۔ پھر 58 ٹو بی کو آئین سے پاک کردیاگیا۔ پارلیمنٹ کا سرقلم کرنے کا صدارتی اختیار ختم ہونے سے ٹرائیکا کا یہ دور ختم ہوگیا۔ صدر کا عہدہ محض ’ممنونین‘ کے لئے رہ گیا۔ فوج کا ثالث کا کردار بھی اس کے ساتھ ہی قصہ پارینہ بن گیا۔
حالیہ برسوں میں عدالتی اختیارات میں اضافہ سے قوت کی نئی جہت سامنے آنے لگی۔ پیپلزپارٹی کے دور میں بھی اس کا شورشرابہ برپارہا۔ اس سے قبل مشرف کے دوراختتام کا ذریعہ بھی یہی ریاستی آئینی ستون بنا۔ رفتہ رفتہ کہاجانے لگا کہ طاقت کا نیا دائرہ وجود میں آچکا ہے جس میں اہم کھلاڑی عدلیہ ہے۔ شریفین کے بارے میں عدالتی فیصلوں کے بعد قوت کی اس مثلث میں فوج کو نتھی کردیاگیا۔ وزیراعظم کا عدلیہ اور فوج کے ساتھ برسرپیکار ہونا کوئی اصول تو ہرگز نہیں۔ سینٹ میں نوازشریف کی شکست دراصل پارٹی پر ان کی کمزور ہوتی گرفت کا شاخسانہ قرار دیاجارہا ہے۔ زور اس بات پر ہونا چاہئے کہ عدلیہ اور فوج سے ٹکرانے اور ریاستی اداروں کو فتح کرنے کے رویہ کو روکنے کے لئے جماعت خود آگے بڑھے اور جمہوری نظام کو بچائے اور اس کارخیر کے لئے دیگر سیاسی قوتوں کی حمایت کے حصول کی راہ ہموار کرنے کی صورت پیدا کرے۔