تسلی رکھیں۔۔۔۔۔

15 مارچ 2018

سابق وزیراعظم کہتے ہیں اگلے ستر سال پچھلے سترسال± جیسے نہیں گزرنے چاہیں۔۔۔۔تسلی رکھیں جو کچھ آپ بیج بو گئے ہیں ،اگلے ہزاروں سال ویسے گزریں گے جیسا آپ کے قائد ضیا الحق دیکھنا چاہتے تھے۔ سینیٹ کی لابی میں بیٹھے ہوئے نو منتخب نمائندگان کی تقریب حلف برداری اور دوسرے روز سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لئے ووٹنگ کے مناظر دیکھتے ہوئے ہماری نظروں کے سامنے ملک کے ماضی حال اور مستقبل کے مناظر بھی گردش کرنے لگے۔سیاسی برانڈز کے چہرے دیکھتے ہوئے سوچ رہے تھے کہ کیا فرق پڑتا ہے سینیٹ چیئرمین زید بنے یا بکر بنے۔ آستانہ اقتدار تک جو پہنچا اسی نظام میں شیر و شکر ہو گیا۔چیئرمین سینیٹ سنجرانی بلوچ بن گیاتو اس میں صدمہ کی بات کیا ہے ؟ سنجرانی بھارت سے آیا ہے ؟ اور راجہ ظفر الحق نہ بن سکے تو ماتم کا سبب کیا ہے ،؟ تیری سیاست میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے نہ کوئی بندہ رہا نہ صادق رہا۔۔۔اس نظام منافقت میں جو بھی آئے۔ جی آیاں نوں۔۔۔۔پاکستان کی سیاست کا آپریشن بھی جاری ہے۔عوام تسلی رکھیں سیاسی سفر اب بہتری کی طرف چل پڑا ہے۔ پاکستان مثبت سمت کی جانب گامزن ہے۔ سب بے نقاب ہو کر جائیں گے۔ سب مکافات عمل بھگت کر جائیں گے۔ تسلی رکھیں۔۔۔سب کاٹ کر جائیں گے جو کچھ بو چکے ہیں۔ رعونت بھرے لہجے اپنی موت آپ مر جائیں گے۔ تکبر سر نگوں ہو گا۔ بھروسے ٹوٹ جائیں گے۔ مان چکنا چور ہو ں گے۔ خوشامدی منہ کی کھائیں گے۔ کٹھ پتلیاں بے آبرو ہوں گی۔اگر قائم رہے گا تو فقط پاکستان۔ سلامت رہے گا تو فقط جذبہ حب الو طنی۔باقی سب بہہ جائے گا۔ اپنی نیتوں اور اعمال سمیت غرق ہو جائے گا۔جوتے پھینکنے کی روش پھر لوٹ آئی ہے۔ یاد بش پھر بیدار ہوئی ہے۔والد پر جوتا پھینکا جانے پر میڈیا بھر میں افسوس جاری تھا کہ بیٹی کے خطاب نے ماحول ہی بدل کر رکھ ڈالا۔ غیبی معاملات فقط روح کی نگاہ سے دکھائی دیتے ہیں۔ اس موضوع پر مجھے مزید کچھ نہیں کہنا کہ جو کہنا تھا فیس بک ویڈیو میں کہہ دیا اور پوری دنیا میں اہل وطن نے اس پیغام پر لبیک کہا۔ جوتے اچھالنے اورسیاہی پھینکنے کا موسم پھر سے لوٹ آیا ہے جو کہ افسوس ناک لمحہ ہے۔ حالات اگر یونہی نفرتوں کے سپرد رہے تو نوبت جوتے سے گولی تک پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ عام انتخابات کے موسم کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کی لڑائی چار حلقوں سے شروع ہوئی اور معاملہ وزیراعظم کی نا اہلی تک پہنچ گیاجبکہ آئندہ الیکشن میں دھاندلی جنگ کی صورت اختیار کرنے کا قوی خدشہ موجود ہے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت خود اعتمادی کے جس سحر میں مبتلا ہو چکی ہے اس کا اثر ٹوٹ چکا ہے۔آج مجبوری حالات نے میاں شہباز شریف کو پارٹی صدر منتخب کر ادیا۔ اگر یہی کام بھائی صاحب بہت پہلے خوشی سے خود کر دیتے تو پارٹی تقسیم ہونے سے بچ سکتی تھی۔اب پارٹی ہی نہیں جانشینی بھی آمنے سامنے کھڑی دکھائی دیتی ہے۔
٭٭٭٭٭