نگران وزیراعظم، فیصلہ کہیں اور ہو گا

15 مارچ 2018

نومبر1996میں جب سردار فاروق خان لغاری نے محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی دوسری حکومت کو برطرف کیا تو ارادہ اس کے بعد بھی 90 دنوں کے اندر انتخابات کروانے کی بجائے ”کڑے احتساب“ کا تھا۔ ”کڑا“ احتساب ترجیح بن جائے تو نگران حکومت کا دورانیہ طویل ہوجایا کرتا ہے۔ جنرل ضیاءالحق بھی 1977میں اس ملک میں ”خانہ جنگی کو روکنے کی خاطر“ نمودار ہوئے تھے۔ 90دنوں میں انتخابات کروانے کا وعدہ کیا۔ اس کے بعد مگر انتخابات سے پہلے احتساب کا نعرہ بلند ہوگیا۔ انتخابات میں ”مثبت نتائج“ حاصل کرنے کے لئے انہیں 1985تک انتظار کرنا پڑا۔ ان کے اپنے کرائے انتخابات کے باوجود جو قومی اسمبلی نمودار ہوئی اس کے ساتھ وہ تین سال بھی نہ گزار پائے۔ مئی 1988میں جونیجو مرحوم کی حکومت کو برطرف کردیا گیا۔
فاروق لغاری مرحوم کو بھی 1996میں محترمہ کی دوسری حکومت فارغ کرنے کے بعد ”مثبت نتائج“ کی توقع تھی۔ ان کے لئے عوام کے ذہنوں کو تیار کرنے کے لئے انہوں نے مرحوم ارشاد احمد حقانی جیسے قدآور صحافی اور کالم نگار کو اپنا وزیر اطلاعات بنایا۔ وزارت سنبھالتے ہی مرحوم نے اپنی وزارت کے نام میں ”ارشادات“ کا اضافہ کردیا۔ ایران میں بھی اس وزارت کا یہی نام ہے۔ کیوں؟ اس کا جواب مجھے معلوم نہیں۔ شبہ ہے کہ اطلاعات میں ارشادات کا اضافہ ریاستی سطح پر ہوئے پراپیگنڈے کو ”حلال“ بنادیتا ہے۔
حقانی صاحب کے ساتھ ہمارے ایک اور جید صحافی جناب نجم سیٹھی صاحب بھی سردار فاروق لغاری صاحب کی بنائی نگران حکومت میں شامل ہوئے تھے۔ ان کے ذمے ”احتساب“ لگا۔ دفتر سنبھالتے ہی لیکن پریشان ہوگئے۔ سیاستدانوں کی مبینہ کرپشن کی جو فائلیں ان کے سامنے رکھی گئیں انہیں دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگاتے رہے۔وائٹ کالر کرائمز سے جڑی کہانیوں کو عدالتوں کے لئے قابلِ قبول فردِ جرم بنانے کے لئے بہت محنت،لگن اور وقت درکار ہوتے ہیں۔ 90دن اس کے لئے بہت کم ہیں۔
لغاری صاحب کی بنائی نگران حکومت کے وزیر خارجہ صاحب زادہ یعقوب علی خان لہذا واشنگٹن بھیجے گئے۔ امریکہ کے حکمران طبقات میں بہت مقبول ومحترم صاحب زادہ صاحب نے وہاں کی حکومت کو قائل کرنا تھا کہ پاکستان میں نوے دنوں میں انتخابات کروانے کے لئے مجبور نہ کیا جائے کیونکہ انتخابات سے پہلے احتساب ضروری ہے۔ صاحب زادہ صاحب کا جہاز واشنگٹن میں اترنے سے قبل ہی لیکن امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان جاری کردیا۔ اس بیان میں پاکستان کی نگران حکومت سے اپنے آئین پر ”مکمل عمل“ کی اُمید کا اظہار ہوا۔ جواب سوال اٹھانے سے پہلے ہی مل گیا یعنی آئین میں دئیے نوے دنوں کے اندر انتخابات کروانا ضروری ہیں۔ انتخابات ہوئے اور نواز شریف ”ہیوی مینڈیٹ“ کے ساتھ وزیر اعظم بن گئے۔ اس کے بعد جو ہوا وہ حالیہ تاریخ ہے۔ دہرانا ضروری نہیں۔
ان دنوں ایک بار پھر نگران حکومت کی تلاش جاری ہے۔ 30مئی 2018کے دن موجودہ اسمبلی کی آئینی مدت ختم ہوجائے گی۔ آئین کی 18ویں ترمیم کے مطابق اگر کوئی حکومت اپنی آئینی مدت بخیروعافیت مکمل کرلے تو 60دنوں کے اندر انتخابات کروانا ضروری ہوتا ہے۔ انتخابات کی نگرانی کے لئے ایک نگران حکومت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حکومت کی قیادت کے لئے ایک وزیر اعظم بھی درکار ہے۔
اصولی طورپر اسمبلی کی آئینی مدت ختم ہونے سے قبل وزیراعظم اور قائدِ حزب اختلاف کو مل بیٹھ کر نگران وزیر اعظم کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ سینٹ کے حالیہ الیکشن کی وجہ سے پیدا ہوئی بدگمانیوں کی وجہ سے اب شاہد خاقان عباسی اور خورشید شاہ کسی ایک نام پر متفق نہیں ہوپائیں گے۔ اپنی جانب سے وہ جو تین،تین نام دیں گے وہ 6بن کر چیف الیکشن کمشنر کے پاس چلے جائیں گے۔ وہ ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گے۔
معاملہ مگر اتنا سادہ بھی نہیں ہے۔ محترم چیف جسٹس صاحب بھی بارہا وعدہ کررہے ہیں کہ وہ ہر صورت صاف اور شفاف انتخابات ہوتے دیکھنا چاہ رہے ہیں۔ان کی نگران حکومت کے قیام کے ضمن میں لہذا کسی نہ کسی صورت رائے لینا بھی ضروری ہوگا۔ اس کے علاوہ ریاست کے دائمی ادارے ہیں۔ نگران حکومتوں میں شامل افراد کے لئے ان سے Security Clearanceلینا بھی ضروری ہے۔
بہرحال 2جون 2018کو نگران وزیر اعظم نے حلف لینا ہے۔ اس کا نام طے کرنے کے لئے ابھی وزیر اعظم اور قائدِ حزب اختلاف میں مشاورت بھی شروع نہیں ہوئی۔ اسلام آباد کے ”باخبر حلقوں“ میں اگرچہ کئی نام گردش کرنا شروع ہوگئے ہیں۔محسوس ہورہا ہے کہ ایک زمانے میں Mr Cleanمشہور ہوئے حامد ناصر چٹھہ صاحب کا نام اس حوالے سے سرِ فہرست ہے۔
موصوف جونیجو مرحوم کے وزیر اطلاعات ہوا کرتے تھے۔ سید فخر امام کو سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے سے ہٹایا گیا تو ان کی جگہ لی۔ جنرل ضیاءنے جونیجو مرحوم کی حکومت برطرف کی تو ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ 1990کے انتخابات ہوئے تو نواز شریف کی کابینہ میں رہتے ہوئے بھی جونیجو صاحب کو اپنا قائد بتاتے رہے۔ غلام اسحاق خان لاہور سے آئے نوجوان وزیر اعظم کی ”پھرتیوں“ سے ناراض وپریشان ہوئے تو چٹھہ صاحب نے نواز شریف کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردیا۔ اُمید تھی کہ نواز شریف کو برطرف کرنے کے بعد غلام اسحاق خان انہیں نگران وزیر اعظم بنائیں گے۔لاٹری مگر میربلخ شیر مزاری صاحب کی نکل آئی۔
1993کا انتخاب چٹھہ صاحب نے مسلم لیگ جونیجو گروپ بناکر لڑا۔محترمہ بے نظیر بھٹو ان کی اتحادی تھیں۔ ان کی دوسری حکومت بنی تو چٹھہ صاحب نے پنجاب اپنے منظور وٹو کے لئے لے لیا۔ اسی جماعت کے کوٹے ہی سے سردار آصف احمد علی وزیر خارجہ بنے تھے۔چٹھہ صاحب ان دنوں تقریباََ گوشہ نشین ہیں۔ ان کے فرزند البتہ پی ٹی آئی میں جاچکے ہیں۔
نواز شریف کیمپ کے لئے ان کا نام یقینا انگریزی محاورے والا Red Ragہوگا۔ پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ صاحب کو شاید کوئی اعتراض نہ ہو۔آصف علی زرداری تیار ہوں گے یا نہیں اس ضمن میں اعتماد کے ساتھ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔نگران وزیر اعظم لیکن اب نواز شریف اورپیپلز پارٹی کے لئے اپنے تئیں بنانا ممکن نہیں رہا۔ فیصلہ کہیں اور ہوگا۔ شنید ہے کہ ”وہاں“ حامد ناصر چٹھہ صاحب کی بہت ستائش ہورہی ہے۔ ویسے بھی چٹھہ صاحب کا احمد نگر،گوجرانوالہ کی حدود میں آتا ہے۔ خاندانی جاٹ ہیں۔ ان کے اجداد نے سکھوں سے وہ توپ چھینی تھی جو ان دنوں لاہور کے مال روڈ پر لگی نظر آتی ہے۔ اسے بھنگیوں کی توپ کہا جاتا ہے۔ یہ پس منظر ”عسکری جاٹوں“ کے لئے بہت فخر کا باعث ہے۔ اس کے علاوہ لکھنے کی تاب نہیں۔ مزید تفتیش کرنا ہوگی۔ اپنے اندر موجود تھکے ہارے رپورٹر کو کوئی ٹانک دے کر متحرک بنانا پڑے گا۔کنفرمیشن ہوگئی تو اس کالم میں لکھ دوں گا۔
٭٭٭٭٭