بلدیہ کراچی کے کنٹریکٹ ملازمین کا میئر آفس پر مظاہرہ‘ توڑ پھوڑ

15 مارچ 2018

کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلدیہ کراچی کے کنٹریکٹ ملازمین نے مستقل نہ کئے جانے اور تنخواہ نہ ملنے پر میئر آفس پر مظاہرہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ میئر کراچی وسیم اختر موجود نہیں تھے ۔ کے ایم سی بلڈنگ میں داخل ہوتے وقت مظاہرین کی سیکیورٹی اسٹاف سے جھڑپیں ہوئیں اور مظاہرین سیکیورٹی اسٹاف کو دھکیل کر اندر داخل ہوگئے۔ انہوں نے دروازوں اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیئے۔ میونسپل کمشنر ڈاکٹر اصغر عباس مذاکرات کیلئے آئے تو مظاہرین نے انکار کر دیا۔ مظاہرہ کے بعد میئر کراچی نے کہا ہے کہ کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کے لئے سمری سندھ حکومت کو بھیجی جاچکی ہے ، سندھ حکومت کی جانب سے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے پر پابندی عائد ہے لہٰذا کنٹریکٹ ملازمین کو احتجاج کے بجائے حکومت سندھ کے احکامات کا انتظار کر نا چاہئے، یہ بات انہوں نے بدھ کے روز بلدیہ عظمیٰ کراچی کے کنٹریکٹ ملازمین کی طرف سے اپنی ملازمت کی مستقلی کے مطالبے کے حوالے سے کہی، میئر کراچی نے کہا کہ میٹروپولیٹن کمشنر اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور انہیں کنٹریکٹ ملازمین کے مسائل بشمول تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملے کو فوری حل کرنے کی ہدایت کردی ہے تاہم ان ملازمین کی مستقلی کے لئے ہمیں سندھ حکومت کے احکامات کا انتظار ہے جونہی اس سلسلے میں کوئی پیشرفت ہوئی کنٹریکٹ ملازمین کی ملازمتوں کو مستقل کرنے میں دیر نہیں لگائی جائے گی۔
بلدیہ ملازمین/ مظاہرہ