تھریسامے نے 23 روسی سفارتکاروں کو ایک ہفتے میں برطانیہ چھوڑنے کا حکم دیدیا

15 مارچ 2018

لندن(اے ایف پی) برطانیہ نے روس سے اعلیٰ سطح کے سفارتی تعلقات معطل کردیے ہیں، وزیراعظم تھریسا مے نے روس کے تمام 23سفارتکاروں کو ایک ہفتے میں برطانیہ چھوڑنےکا حکم دیدیا۔دونوں ممالک کے د رمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے باعث روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا طے شدہ دورہ¿ برطانیہ بھی منسوخ کر دیا گیاہے۔وزیراعظم تھریسامے کا اس حوالے سے کہنا تھاکہ روسی سفارتکاروں کی ملک بدری کا فیصلہ برطانیہ میں روس کے جاسوسی نیٹ ورک کوتوڑنے کے لیے کیا گیا۔ پچھلے دنوں ایک سابق روسی خفیہ ایجنٹ اور اس کی بیٹی پر برطانیہ میں اعصابی گیس کے حملے کے بعد روس برطانیہ تعلقات میں کشیدگی ہے۔ برطانیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ روس میں منعقدہونےوالے ورلڈکپ فٹبال میں برطانوی شاہی خاندان اور برطانوی وزرا شریک نہیں ہونگے۔ اس سے پہلے جب برطانیہ نے اعصابی گیس کے حملے پر روس سے وضاحت مانگی تھی تو روس نے موقف اختیار کیا تھا کہ نیوکلیئر سپرپاورکو جواب دینے کاحکم نہیں دیاجاسکتا۔30برس میں سفارتکاروں کی سب سے بڑی ملک بدری ہے۔ برطانوی مو¿قف کی تائید پر نیٹو اور یورپی یونین کے شکر گزار ہیں۔ صدر ٹرمپ ، صدر میکرون اور چانسلر مرکل نے بھی حمایت کی ہے، روس کے سابق ڈبل ایجنٹ، جاسوس کو زہر دینے کا تنازعہ شدت اختیار کرگیا۔ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کرلیا گیا جس میں برطانیہ اپنے موقف کا دفاع اور وضاحت کریگا ادھر نیٹو اتحادیوں نے برطانیہ سے یکجہتی کرتے ہوئے مطالبہ کیا ماسکو لندن کے سوالات کا جواب دے۔ یہ بات 29 ممالک کے مشترکہ بیان میں کیں گیں۔ برطانیہ میں روسی سفیر الیگزینڈر ہاکو وینکو نے برطانوی فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ برطانوی حکومت کا روسی سفارتکاروں کو نکالنے کا فیصلہ غیر مناسب ہے۔ برطانوی حکومت کو ذمہ داریوں اور عالمی فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔
برطانیہ/ حکم