شہباز شریف کے مسلم لیگ کا صدر منتخب ہونے کے بعد

15 مارچ 2018

ماشاء اللہ 13 مارچ کو جناب شہباز شریف کنونشن سنٹر اسلام آباد کے جنرل کونسل اجلاس میں بلامقابلہ مسلم لیگ ن کے صدر بنا دیئے گئے ہیں۔ میں وہ لمحہ یاد کر رہا ہوں جب محمد خاں جونیجو کی وفات کے بعد جناب نواز شریف نے صدر مسلم لیگ بننے کی کوشش کی تھی مگر جب وہ اقتدار سے محروم ہوئے تو جناب نواز کھوکھر کے گھر کے سامنے مسلم لیگ ن کا قیام عمل میں آیا تھا مگر آج جناب نواز کھوکھر کہاں ہیں؟ ان کا بیٹا سندھ سے جناب زرداری کی مہربانی سے سینیٹر ہے۔
جب جناب شہباز شریف کو کنونشن سنٹر میں بلامقابلہ صدر بنایا جا رہا تھا اور یہ عمل جناب نواز شریف کی وساطت سے جناب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی معیت میں، راجہ ظفر الحق چیئرمین پارٹی کی صحبت میں پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔ 11 اور 12 تاریخ جناب نواز شریف کے لئے بہت پریشان کن رہی ہے۔
11 مارچ کو انہیں جامعہ نعیمیہ لاہور میں ایسی پریشانی دیکھنی پڑی جس سے صدر بش بھی دوچار ہوئے تھے، دنیا بھر کے قائدین گزشتہ دو عشروں میں اس عمل سے دوچار ہوئے ہیں۔ ماضی میں ٹماٹر اور انڈے سیاسی کلچر کا حصہ تصور ہوتے تھے مگر بداخلاقی بھی بہت سمجھا جاتا تھا لہٰذا خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی اور جناب نواز شریف کی طرف جوتا اچھالنا انتہائی غیرمہذب اور بداخلاقی میں شمار ہوتا ہے۔ بطور خاص جب ماحول ایک دینی اورعظیم جامعہ کا ہو تو یہ عمل مزید ناقابل برداشت ہونا چاہئے۔
الحمدللہ سب نے اسکی مذمت کی تو یہ اچھی بات ہوئی ہے۔ 12 مارچ کو جناب نواز شریف کے انداز سیاست اور طرز فکر کو سینٹ میں سیاسی شکست کا سامنا ہوا ہے۔ راجہ ظفرالحق جیسے سنجیدہ اور بزرگ سیاست دان کو اراکین سینٹ نے ووٹ دینے کی بجائے بلوچستان کے آزاد سینیٹر کو چیئرمین سینٹ بنایا جس پر آج اعتراض ہے کہ انکی عمر صدر پاکستان کے لئے مطلوب اور مقررہ عمر سے پانچ سال کم ہے۔ چونکہ چیئرمین سینٹ قائمقام صدر ہوتا ہے اور بوقت ضرورت اسے صدر کے فرائض ادا کرنا ہوتے ہیں لہٰذا انکی عمر وہی ہونی چاہئے جو صدر کی مقرر ہے یعنی 45 سال۔ کیا سینٹ کے انتخابات استحکام لائے ہیں؟ جی نہیں بلکہ عدم استحکام لائے ہیں۔ تلخی مزید پیدا ہو گئی ہے۔
آئینی موشگافیاں سامنے آ رہی ہیں اور شاید بہت سے آئینی بحران سینٹ کے حوالے سے بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ پنجاب سے لیگی سینیٹرز کو تحریک انصاف کی خاتون رہنما نے چیلنج کر رکھا ہے، کیا چیئرمین سینٹ کی عمر کا معاملہ بھی آئینی طور پر دیکھا جائے گا؟ مجھے بزرگ راجہ ظفرالحق سے اظہار افسوس کرنا ہے کہ ان کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا ۔ نواز شریف کے سیاسی اسلوب کو شکست فاش ہوئی ہے اور یہ شکست خود انکے اپنے لیگیوں اور ان کے اتحادیوں کی طرف سے ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے تین سینیٹرز غیرسنجیدہ اور سینٹ ہال سے باہر کیوں رہے تھے؟
مولانا فضل الرحمن‘ محمود اچکزئی وغیرہ کو میاں نواز شریف کے اسلوب سیاست نے کتنا نوازا اور اپنے مخلص ترین لیگی کارکنوں کو کتنا محروم رکھا؟ جنرل مشرف کے ساتھیوں کو کتنا نوازا اور اپنے لئے مار کھانے والوں سے کتنا عدم التفات کیا؟ انہوں نے ’’اغیار‘‘ کے پیٹ بھر دیئے اور اپنوں کو بھوکا اور سیاسی سرپرستی سے محروم کیا ہے، ’’اغیار‘‘ تو اغیار ہوتے ہیں۔ کیا جناب شہباز شریف اسی شکست خوردہ‘ اخلاقی روایات اور اقدار سے محروم نواز شریف سیاست کو جاری رکھیں گے یا اس کے متبادل اس اخلاقی انداز فکر اور اسلوب مسلم لیگ کو نافذ کریں گے جو میرے سامنے سرور پیلس جدہ میں 19 جنوری 2003ء کی شام کو بیان کیا تھا۔ جناب شہباز شریف کا انداز فکر‘ اسلوب سیاست اس لیگی اتحاد کے خاکے سے بالکل مختلف تھا جس کے ساتھ نواز شریف طبعی طور پر وابستہ ہیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ جناب نواز شریف نے چودھری برادران سے ہوتی صلح کو ناممکن بنایا‘ چٹھہ سے طے ہو چکے اتحاد کو ناقابل عمل تصور کیا اور خود کو آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی، بزنجو کے ٹوکرے میں ڈال دیا۔ اگر جنرل مشرف کے اکثر ساتھی انہیں قبول ہو گئے تھے تو چودھری برادران اور حامد ناصر چٹھہ کیوں ہضم نہ ہو سکے؟ ظفراللہ جمالی کی تمام محبتیں ہمیشہ ہی نواز شریف کیلئے وقف رہیں مگر وہ کیوں روٹھ گئے؟ جناب نواز شریف ’’اغیار‘‘ کی آبیاری کرتے رہے اور مسلم لیگ اپنی جماعت کی دھوپ میں سوکھتی رہی ۔
اگر وہی منصوبہ زیرعمل ہوتا جو میرے ساتھ شہباز شریف نے ساڑھے تین گھنٹے کی بات چیت میں سرور پیلس جدہ میں طے کیا تھا تو شہباز فارمولا اس انجام سے دوچار نہ ہوتا جس انجام سے جناب نواز شریف کا اسلوب سیاست و فکر دوچار ہو چکا ہے۔ اس وقت جب 13 مارچ کو شہباز شریف صدر مسلم لیگ بنے ہیں تو شریف خاندان تصادم اور کشمکش کے راہی ہیں۔ شریف خاندان جس میں محترم نواز شریف اور مریم نواز سرفہرست ہیں اواخر مارچ میں ہمیں مزید تصادم کرتے نظر آئیں گے۔
اپریل میں مزید تلخیاں ہوتی ہمیں دکھائی دیں گی اور شاید اواخر اپریل میں تلخی، تصادم، کشمکش اس قدر بڑھ جائے کہ فطری انتخابی عمل درست وقت میں شروع نہ ہو سکے گا۔ جہاں شہباز شریف کو صدارت مل گئی وہاں انکے راستے میں صرف کانٹے، پائوں کو لہولہان کرتے نوکدار پتھر استوار ہیں۔ کنونشن سنٹر میں انکی تقریر مزید گرم مزاجی، مزید تصادم کی طرف جاتی ہے۔ نوازشریف کی شہباز شریف ماضی میں ہی صدر رہنے دیئے جاتے تو مسلم لیگی سیاست و اقتدار کے ساتھ وہ نہ ہوتا جو کچھ ہو گیا ہے۔