کشمیری کب تک اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے

15 مارچ 2018

رواں برس کے صرف 10 ہفتوں میں ابتک مقبوضہ کشمیر میں وہاں قابض بھاتی فوج کے ہاتھوں مختلف اضلاع میں 18 نوجوانوں کی شہادت ہو چکی ہے۔ بناء کسی وجہ کے صرف شک کی بناء پر 200 سے زیادہ نوجوان اٹھا لئے گئے ہیں ان پر 11 فروری 2018ء کو جموں میں بھارتی فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملوں میں ملوث جنگجوؤں سے تعلق و روابط کا شک تھا یہ حملہ بھارتی فوج کے ترجمان کے مطابق 30 گھنٹے تک جاری رہا جس میں 5 بھارتی فوجی مارے گئے لیکن بھارت کے میڈیانے ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتائی جسے بھارت کی وزارت دفاع نے 5 ظاہر کیا علاوہ ازیں اتنے اہم گیریژن میں چار حملہ آوروں کے داخلے اور وہاں 30 گھنٹوں تک فوج سے مقابلے کے حوالے سے بھی بہت سے سوالات اٹھائے گئے۔ پہلا سوال فوج کی پیشہ ورانہ استعداد اور آرمی گیریژن کی ناقص سکیورٹی کے حوالے سے تھا ان سوالات کا جواب بھارت کے وزیر دفاع اور آرمی چیف نے پاکستان کو دھمکیوں کی صورت میں دیا بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان سے مناسب وقت پر اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ لیکن بھارتی میڈیا اس پر مطمئن نہیں اور ہو بھی کیسے سکتا ہے کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوج جسے وہاں سڑکوں پر احتجاج کرنے والے غیر مسلح نوجوانوں پر گولیاں برسانے‘ انہیں اغوا کر کے قید خانوں میں ان پر تشدد کرنے‘ رہائشی علاقوں و گلی محلوں کی ناکہ بندی کر کے گھر گھر تلاشی لینے‘ خواتین کو ہراساں کرنے اور ان کی بے حرمتی کرنے کے سوا دوبدو جنگ کا کوئی تجربہ نہیں یہی وجہ ہے کہ جب بھی حریت پسند بھارتی جبر و انسانیت سوز مظالم سے تنگ آ کر کسی فوجی کیمپ پر حملہ کرتے ہیں تو وہاں موجود بھارتی فوجیوں میں کھلبلی مچ جاتی ہے وہ افراتفری میں اندھا دھند فائرنگ کرتے ہیں جس سے ان کے اپنے ساتھی نشانہ بن جاتے ہیں اس کی تصدیق اڑی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے کے بعد مارے گئے بھارتی فوجیوں کے جسموں سے نکلنے والی گولیوں کی فرانزک رپورٹ نے کی کہ مارے گئے بھارتی فوجیوں کی اکثریت اپنے فوجیوں کی طرف سے کی گئی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ یہ رپورٹ لیک ہونے کے بعد بھارتی فوج نے موقف اختیار کیا تھا کہ حملہ آوروں میں سے 2 کے پاس ماضی میں بھارتی فوج سے چھینی گئی رائفلیں تھیں لیکن ان کے اس موقف نے اڑی بریگیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد اس کی نفی ہو گئی کہ حملہ آور پاکستانی ساختہ AK47 رائفلوں سے مسلح تھے لیکن ڈھٹائی کی حد تک جھوٹ بولنے اور بار بار موقف تبدیل کرنے کے عادی بھارتی فوج کو اپنا جھوٹ ثابت ہونے پر کبھی شرمندگی نہیں ہوئی تاہم ان کے پاس اس بات کا کوئی بھی جواب نہیں کہ جب بھی دوچار حریت پسند بھارتی فوج کے کسی کیمپ یا ہیڈ کوارٹر پر حملہ آور ہوتے ہیں تو ان پر قابو پانے کے لئے بھارتی فوج کو دو سے تین روز کیوں لگتے ہیں ایسے ہی سوالوں کا غصہ بھارتی فوجی بے قصور و مظلوم کشمیریوں پر نکالتے ہیں قتل کرتے ہیں‘ اغوا کرتے ہیں یا پھر لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں تاکہ بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا پر توجہ کنٹرول لائن پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کی طرف سے احتجاج میں الجھائی جا سکے۔ وجہ کچھ بھی ہو قابض بھارتی فوج کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ بنا کسی ثبوت کے گھر گھر تلاشی کے دوران بے گناہ کشمیریوں کو اٹھا کر لے جائے اور عقوبت خانوں میں انہیں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے پر مجبور کردے یا ناکوں پر توہین آمیر رویہ کے خلاف اشتعال میں آ کر احتجاج کرنے والوں کو گولیوں کا نشانہ بنا کر ان پر سکیورٹی فورسز سے مقابلہ یا ناکے پر موجود فوجیوں پر حملے کا الزام لگا کر اپنے جرائم کی پردہ پوشی کرے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی کے لئے اس طرح کی کارروائیوں کا سلسلہ گزشتہ سات دہائیوں سے جاری ہے لیکن 4 مارچ 2018ء کی شب ضلع شوپیاں میں ایک ناکے پر بھارتی فوجیوں نے اس وقت بربریت کی انتہا کر دی جب ایک کار کو روک کر اس میں سوار نوجوانوں کے ساتھ دوران تلاشی انتہائی ہتک آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔ اپنی اس توہین پر کار میں سوار چھ نوجوان بھارتی فوجیوں سے الجھ پڑے جس پر ناکے پر تعینات فوجیوں نے ان سب پر گولیاں برسا دیں چار کشمیری نوجوان وہیں موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ 2 کو بھارتی فوج زخمی حالت میں اپنے ساتھ لے گئی ان دونوں کی لاشیں ایک روز بعد ویرانے سے ملیں اپنی اس بربریت کو چھپانے کے لئے بھارتی فوجیوں نے مارے گئے کشمیریوں میں سے دوکو مطلوب دہشت گرد اور باقیوں کو ان کا ساتھی قرار دے کر الزام لگایا کہ یہ سب ناکے پر موجود فوجیوں پر حملہ آور ہوئے تھے ان کی فائرنگ کے جواب میں جب حملہ آوروں نے فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی تو چار مارے گئے اور 2 زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ان دونوں کی لاشیں دوسرے دن جائے وقوع سے کافی دور ویران جھاڑیوں سے دستیاب ہوئیں تو علاقے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید شدت آگئی کیونکہ لاشوں کی حالت بتا رہی تھی کہ انہیں قتل کرنے کے بعد پھینکا گیا تھا مگر ظلم پر اتری ہوئی بھارت سرکار مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کو بات چیت اور مسئلہ کشمیر کے اصل حل کی طرف لوٹنے کی بجائے پیلٹ گن اور بندوق کی زبان میں کشمیریوں کے احتجا ج کو دبانا چاہتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کشمیری موت سے ڈرنے کو تیار نہیںحد تو یہ ہے کہ ایک طرف کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے تو دوسری طرف منافقانہ طرز عمل کی انتہا کرتے ہوئے بھارتی حکمران دنیا کو باور کرا رہے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بے روزگاری کے خاتمہ کے لئے بھارت کو مالی مدد فراہم کرے کیونکہ احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی اکثریت بے روزگاری کی وجہ سے پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں موجود ایجنٹوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے جو انہیں پیسے دے کر پاکستان سے الحاق و بھارت سے آزادی جیسے نعرے لگواتے ہیں اور احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز پر پتھر برساتے ہیں۔ علاوہ ازیں پس ماندہ آبادیوں میں ناخواندگی کو بھی اس کی وجہ بتایا جا رہاہے جس کے لئے چند مغربی این جی اوز نے ان علاقوں میں جدید انگریزی تعلیم سے آراستہ چالیس سکولوں کی تعمیر اور وہاں ابتدائی سطح سے کمپیوٹر کے ذریعے تعلیم فراہم کرنے کے لئے فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ بھارت اس طرح کے حربوں کو دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کے لئے ضرور استعمال کر سکتا ہے تاکہ عالمی رائے عامہ مقبوضہ کشمیر سے آنے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں جیسی خبروں پر کان نہ دھرے لیکن اس سے بھارت اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ 1990ء کی دہائی میں 8 برسوں تک مقبوضہ کشمیر میں فرائض انجام دینے والے بھارتی فوج کے ایک ریٹائرڈ کرنل انیل اتھل نے بھارتی فوج کی موجودہ کمانڈ اور نیو دہلی کو احساس دلایا کہ وہ 8 جولائی 2016ء کو بھارتی فوج نے نوجوان کشمیری حریت پسند برہان مظفر وانی کو مارکر ایسی بھیانک اور اہم سٹرٹیجک نوعیت کی غلطی کی جس نے بھارت سے آزادی کے لئے کشمیری نوجوانوں کو نہ صرف نئی راہ دکھا دی بلکہ تحریک آزادی میں نئی روح پھونک کر اسے ایسے مقام پر پہنچا دیا جس کے بعد کشمیری آئندہ ہزار برس تک آزادی کی تحریک کو جاری رکھ سکتے ہیں۔ اب بھارت کے پاس دو ہی راستے ہیں ایک یہ کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں عوام کے ساتھ طویل لڑائی کے لئے تیار رہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ نیو دہلی فوری طور پر حریت لیڈروں سے مذاکرات کرے‘ انہیں اعتماد میں لے کر فوج کو بھلے مقبوضہ کشمیر میں رکھے لیکن انہیں منظر سے دور کرے اور اس کے بعد کشمیرکے پائیدار حل کے لئے پاکستان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرے جس سے کشمیریوں میں تنازع کے حل کی امید پیدا ہو گی اور وہ احتجاج کی راہ چھوڑ کر دونوں ملکوں میں ہونے والی بات چیت کے نتائج کی طرف دیکھنے لگیں گے۔ بھارت میں بہت سے دانشور مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی قتل عام پر مبنی پالیسی کو خطرناک قرار دے چکے ہیں۔ وہ انتباہ کر چکے ہیں کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے ریت کی طرح نکل رہا ہے۔ مگر اسلام‘ مسلمان اور پاکستان دشمن کا نعر لگاکر اقتدار میں آنے والا مودی امن کا کوئی بھی پیغام سننے کے لئے تیار نہیں۔