’’رادھا بجائے گی ڈگڈی اور ناچیں گے بھیا شام‘‘

15 مارچ 2018

یومِ ولادت، یومِ وفات، یومِ خواندگی، یومِ مزدور، ان تمام ایام کے علاوہ نجانے کتنے اور ایام کی سارنگی بجتی ہے اور پوری دنیا متحرک ہوجاتی ہے ایسے لگتا ہے جیسے کسی غریب کی لڑکی گھر سے بھاگی ہو تو پورا معاشرہ پورا نظام اس کے پیچھے سُر نکالنے والے آلات لے کے پڑجاتاہے کچھ دنوں سے عورت کی عظمت اور قربانیوں کے حوالے سے یوم خواتین کی ڈگڈی بجائی جارہی تھی، مختلف اوقات میں مختلف جگہوں پہ عورت نامے سنائے جارہے تھے، تنظیموں نے بڑی ایمانداری اور اتحاد کے ساتھ اس دن کومنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، جبکہ ویسے تو تنظیموں کے منہ ہروقت ایک دوسرے کیلئے کدو کی طرح سوجے ہوئے ہوتے ہیں، کاش ہم سب اسی طرح متحد ہوکر خواتین کے گھروں کے مسائل حل کرنے کیلئے کوئی حکمت عملی اختیار کرتے مگر ہم بھی کیا قوم ہیں کہ اپنی مرضی سے متحد ہوتے ہیں، ’’حالات جائیں بھاڑ میں‘‘ ان تقریبات کی رونق بھی خواتین تھیں خیال دل میں آیا کہ عورت کی توجہ اور محبت کا مرکز تو گھر ہوتاہے۔تو آج جتنی تعداد میں خواتین گھر کے باہر ہیں تو اس دن ان کے بچے اور خاندان تو ان کی ہاتھ کی گرم روٹی سے محروم ہوگئے۔
سکول سے آنے والے بچوں نے تو گھر میں جو بے سبب ہی ماں کو آوازیں دیتے ہیں آج ماں کو دیکھا ہی نہیں ہوگا ’’چلو جی سانوں کیہ میں وی تھے باہر ای ساں ایہہ جیہڑی میں اک انگل دوجیاں ول کیتی اے تے پِن مینوں وی تے شرمسار کردیاں نئیں‘‘ کبھی کبھی شرمند بھی ہونا چاہیے، مسائل تو عورتوں کے بہت سے ہیں سَیل لگ جائے تو شاپنگ کا مسئلہ، ساس گھر میں آجائے تو مسئلہ، خاوند موبائل کا استعمال زیادہ کرے تو مسئلہ اور اگر وہ موبائل کا ڈیٹا گھر آنے سے پہلے ڈیلیٹ کرکے موبائل سائلنٹ پہ لگا دے تو مسئلہ، عورتیں بے چاریاں کیا کریں سب کی کُھرلی میں منہ مارنا تو ان کی عادت ہے اب کبھی ونڈا سخت ہوگیا یا چارہ مزیدار نہ لگا ہو تو شہد کی مکھیوں کی طرح بھنبھنانا تو ہوتا ہے ویسے تھوڑی سے زیادہ ڈنگ شہد کی مکھی کا ظالم ہوتا ہے ۔اس لئے مرد حضرات سے خصوصی التجا ہے کہ آپ ان کا تمسخر نہ اُڑائیے گا ورنہ ایسا کاٹیں گی کہ چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا اور اگر آپ اپنی ایک عورت سے بھاگ کر دوسری عورت یعنی ماں کے پاس جائیں گے تو وہاں کونسی دودھ جلیبی کھلائی جائے گی دھیان رکھیے وہاں تو کَھلا بھی پڑ سکتا ہے، میں تو یہ دلیرانہ عمل اس لئے کر رہی ہوں کہ اپنا ہی مذاق اُڑا کر خود کو ہی کھری کھری سنا رہی ہوں اور لطف اندوز ہو رہی ہوں ۔
’’وجود ِ زن سے ہے کائنات میں جنگ ‘‘ بڑا ای سچے موتی ورگا جملہ اے‘‘
سجنو، بیلیو تے بہنو، سچ کہوں گی سچ کے سوا کچھ نہ کہوں گی۔ عورت محبت سے گندھی ہوئی ہے مگر صرف ان کے لئے جن سے وہ محبت کرتی ہے ،عورت عظمت کے مینار پہ جا بیٹھی ہے ان کے لئے جن کے لئے وہ قربانی دیناچاہتی ہے پر ایک سچ اور بھی ہے کہ عورت مزدور بھی ہے اور اس کی مزدوری کے اوقات بہت سخت ہیں ۔جہاں عورت پِستی ہے وہاں پہ رشتے نہیں دیکھے جاتے جہاں عورت آپ کو بڑے قد کی نظر آتی ہے وہاں بھی عورت اپنے چہرے پہ مسکراہٹ سجائے سلجھے طریقے سے لباس پہنے کسی نہ کسی فن کی صنف کی نمائندہ بنتی ہے تو کیا آپ جانتے ہیں کہ گھر سے کتنی جھاڑ کھا کر گھر کا جھاڑو پوچا کر کے آتی ہے۔
عورت درویش صِفت جِنس ہے ۔
بظاہر خوش لباسی، ذوق ٹھہری
میرے اندر درویش ناچتا ہے
مرد تو باہر کی چکی پیس پیس کر جب تھک جاتا ہے تو گھر آ کے چھالے عورت کے ہاتھوں کے پھوڑتا ہے۔ مگر کہیں کہیں عورت بھی ہاتھ میں ہتھوڑا لئے جو وار کرتی ہے تو مرد کی ریڑھ کی ہڈی کا مغز بھی باہر آجاتا ہے، عورت مقابلے پہ آجائے ’’تو لالہ جی کجھ نہیں جئے چھڈ دی‘‘
چنگا اہیو اے کہ چُپ کے دڑ وٹ جا نہئں تاں ۔۔۔۔۔ آگے آپے سمجھ لوؤ
عورت مختاراں مائی بھی ہے، عورت عافیہ صدیقی بھی ہے، لیڈی ڈیانا بھی ہے، عورت بے نظیر بھٹو بھی ہے لیکن کیا ہم سب یہ بات نہیں جانتے کہ ان سب نے مرد کے ہاتھوں ظلم و جبر بھی برداشت کیا ہے اور اپنی عظمت کے مینار بھی روشن کئے، عورت کو مرد کی پسلی سے نکالا ہی اس لئے گیا کہ مرد تخلیق کی تکلیف برداشت ہی نہیں کر سکتا جب اللہ نے تخلیق کے لئے عورت کو چنا تو وہاں مرد عورت سے ایک درجہ نیچے آگیا گو کہ وہ طاقتور ہے مگر عورت کی حفاظت کیلئے، اس پر ظلم کرنے یا اسے صَنفِ نازک کو پاؤں کی جوتی سمجھنے کیلئے ، ہمارے وہ پسماند ہ علاقے جہاں عورت ان گنت مسائل و مصائب کا شکار ہے ،وہاں جا کر یوم خواتین کا علم بلند کرنا بہت بڑا چیلنج ہے مگرشہروں بیٹھکوں، ہوٹلوں اورآرٹس کونسلوں میں سیمینار تو ہمیشہ سے ہوتے آئے ہیں اس دن ہم میں سے ٹولیاں بنا کر کون گیا ہے پسماندہ اورغریب عورتوںکے پاس ،کس نے اپنی ماں کو محبت بھرے جملے کہے ہیں،کس نے گھر کے کاموں سے تھکی ہوئی بیوی کو گلاب کا پھول دے کر کہا ہے تم میرے گھر کی خوشبو ہو، کس نے اپنی بیٹی سے یہ کہا ہے کہ آج کے دن ہی صرف تمھاری حکومت نہیں بلکہ میرے دل اور گھر پر ہمیشہ رہے گی۔
عورت جذبات کا اظہار مرد کی نسبت زیادہ کرتی ہے اور بہترین طریقے سے کرتی ہے۔ ’’پر جے زنانی غصے وچ آ جائے‘‘ تے فیر اظہار داویلا آون توں پہلاں جوتیاں چُک کے نسن دی کیتا کرو‘‘ ایک بچے نے ماں سے پوچھا امی میں بڑا کب ہوں گا امی نے جواب دیا کہ کچھ سالوں میں ہو جاؤ گے بیٹا، تو بچے نے کہا کہ امی میں اتنا بڑا کب ہوں گا کہ اپنی مرضی کر سکوں تو امی نے کہا اتنا بڑا تو تیرا باپ بھی نہیں ہوا ۔
تو جناب آپ حضرات بھی بڑا ہونے کی مت سوچیں، چھوٹا رہنے میں ہی مصلحت ہے ورنہ سال میں منائے جانے والایومِ خواتین روزانہ منایا جائے گا۔
’’رادھا بجائے گی ڈگڈی اور ناچیںگے بھیا شام‘‘