نظام قانون و عدل

15 مارچ 2018

یوں تو انصاف ہر معاشرے کے تہذیبی عمل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے مگر خاص طور پر اسلامی معاشرہ تو استوار ہی عدل و انصاف کی بنیادوں پر ہوتا ہے۔ اسلام میں جو عدل کا مقام ہے اس کے لیے اتنا ہی کہنا کافی ہوگا کہ اسلام عدل کو خالق کائنات کی صفات میں بتاتا ہے اور بندے کو جو اللہ کی صفات کا مظہر ہے اس الوھی صفت سے اس طرح مزین دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ صحیح معنوں میں زمین پر اللہ کی خلافت کا حق ادا کرسکے۔
جیسا کہ قرآن پاک میں سورہ النساء آیت نمبر 58میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (اور جب لوگوں میں فیصلے کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو اللہ تمہیں خوب نصیحت کرتا ہے بیشک اللہ سنتا اور دیکھتا ہے)
پھر آگے ایک اور مقام پر سورہ النساء آیت نمبر 135 میں فرمایا:(اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو اور اللہ کے لیے سچی گواہی دو خواہ (اس میں) تمہارا یا تمہارے ماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو اگر کوئی امیرہے یا فقیر تو اللہ ان کا خیر خواہ ہے تو تم خواہش نفس کے پیچھے چل کر عدل نہ چھوڑ دینا)
گویا یہی نہیں کہ صرف اللہ نے انصاف کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ انصاف کے حقیقی معنوں کی وضاحت کرتے ہوئے کسی قسم کی رو رعایت نہ کرنے اور نفع و نقصان کو خاطر میں نہ لانے کی ہدایت بھی کی ہے ۔ ایک اور جگہ سورہ المائدہ آیت نمبر 8 میں اللہ فرماتا ہے:(اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف چھوڑ دو)۔
جو لوگ فیصلے کرتے وقت ان احکامات سے رو گردانی کرتے ہیں اللہ نے انہیں کافر،ظالم اور فاسق کہا ہے۔ اب اس شخص سے زیادہ بد بخت کون ہوگا جو فاسقوں ،فاجروں اور ظالموں کے زمرے میں شمار ہونا پسند کرے گا۔
قرآن حکیم میں عدل و انصاف کے لیے مختلف مقامات پر تین اصطلاحیں استعمال ہوئی ہیں ۔ یعنی 1 عدل 2 قسط 3 میزان۔
ایک اسلامی معاشرے کے لیے عدل کے ان تینوں معانی کو پورا کیے بغیر نظام عدل کے قیام کا تصور ممکن نہیں ۔ اسلامی قانون عدل کے ان تینوں پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے لیے کئی بنیادی شرائط ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔
عدلیہ کی خود مختاری اور بالا دستی کو یقینی بنایا جائے عدالتیں معاشرے کا ضمیر ہیں ۔ وہ عوام کی زندگی، عزت، آزادی، ملکیت اور حقوق کی محافظ ہیں۔ اس کے لیے ریاست کا فرض بنتا ہے کہ وہ عدالتوں کو مکمل آزادی، مناسب اختیارات اور باوقار مقام دے تاکہ وہ عدل و انصاف کے معاملے میں بلا خوف و خطر اپنے فرآئض سر انجام دے سکیں۔
عدل اللہ کی طرف سے عائد کردہ مقدس فریضہ ہے۔ انسانیت کا تقاضہ ہے قومی ذمہ داری ہے تو پھر یہ کام وہی کر سکتا ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف، انسانیت کا درد اور قوم کا امانت دار ہونے کا احساس موجود ہو۔
کسی بھی اسلامی ملک میں اسلامی قانون کی حکمرانی ہو اور حکمران بھی عدل و انصاف سے کام لیتے ہوں تو اس کے نتیجے میں جو معاشرہ تشکیل پائے گا تو وہ یقینا مثالی معاشرہ کہلانے کا حقدار ہوگا! اگر اس میں سے کوئی بھی صفت اس معاشرے میں نہیں ہوگی تو یقینا یہ معاشرہ خسارے میں ہوگا بلکہ آج جو وطن عزیز کی حالت ہے وہ اس پر عمل پیرا نہ ہونے کی وجہ سے ہیں آخر کب تک عدل و انصاف کے ترازوں پر بد نیتی کا لوہا گرم رہے گا ، آخر کب تک!!