اب انہیں ڈھونڈ، چراغِ رُخِ زیبا لے کر

15 مارچ 2018

جبران خلیل جبران عرب لٹریچر کے بہت بڑے دانشور اور مفکر گزرے ہیں۔ انہیں انسانی جذبوں کے حوالے سے فلسفہ محبت کا بہت پرچار کرنے والا لکھاری سمجھا جاتا ہے ۔ محبت صرف دو انسانوں میں ہی نہیں ہوتی محبت تو کسی انسان اور جانور کے علاوہ بے جان اشیاء کے درمیان بھی ہو سکتی ہے۔ اس معاملے میں انسان موسم ماحول، مناظر، آواز اور مختلف اشیاء سے محبت کر سکتا ہے چنانچہ جبران خلیل جبران نے فلسفہ محبت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ کسی سے محبت کرتے ہیں تو اسے کچھ نہیں دیتے سوائے محبت کے، اور اس سے کچھ نہیں لیتے سوائے محبت کے، یعنی محبت کا یہ تعلق صرف اور صرف محبت پر مبنی ہوتا ہے اور محبت کے احساس ہی کو فروغ دیتا ہے، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ جو بھی کچھ ہے وہ سب محبت کا پھیلائو ہے، محبت کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ محبت کا دوسرا نام قربانی ہے۔ یہ قربانی محبت کرنے والوں کو قدم قدم پر دینا پڑتی ہے جس پر محبت کرنے والے بجا طور پر فخر کرتے ہیں۔ محبت کی معراج حاصل کرنے کے لیے محبت میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو اپنی انا کی قربانی بھی دینا پڑتی ہے، اس کے باوجود وہ محبت کو خسارہ نہیں کہتے ، اسے گھاٹے کا سودا نہیں سمجھا جا سکتا۔
محبت کے معاملات کو عام طور پر دنیا داری کے حوالے سے زیر بحث لایا جاتا ہے۔ لیکن جب ہم روحانی معاملات میں محبت کے پہلو کا جائزہ لیتے ہیں تو اس کا اصل روپ سامنے آنا ہے، اللہ تعالیٰ کی انسان سے محبت انتہائوں کو چھو جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد مصطفیؐ تک تمام انبیاء کرام کے ذریعے محبت کا پیغام پہنچایا۔ یہ ساری دنیا اور تمام مخلوقات اللہ تعالی کی عطا کردہ ہے چنانچہ ہمیں اللہ ، اس کے احکامات اور انبیاء و اولیاء کرام سے محبت کی ہدایت پہنچائی گئی کہ وہی اصل محبت ہے۔ عشق مجازی اور عشق حقیقی میں فرق بھی واضح کر دیا گیا ہے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ کس راہ کا انتخاب کرتا ہے۔ اولیاء کرام نے بندوں سے محبت کے ذریعے اللہ کے پیغام کو عام کیا۔ محبت کو زندگی اور کائنات کی ایک انوکھی تشریح بھی کہا جاتا ہے۔ محبت کے عالم میں دھڑکنے والوں کے ساتھ کائنات کی گردشیں ہم آہنگ ہو جاتی ہیں۔ محبوب اور محب کا تقریب موسموں کو بھی خوشگوار بنا دیتا ہے۔ محبوب کا فراق بینائی چھین لیتا ہے اور محبوب کی صرف قمیض کی خوشبو سے بینائی لوٹ بھی آتی ہے محبوب اگر جدا ہو تو بہاریں روٹھ جاتی ہیں۔ بہاروں کی رنگینی اور دلکشی میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی ۔محبت سچی ہو تو انسانوں کو اپنے وجود ہی میں کائنات کی وسعتوں اور گہرائیوں سے آشنائی ہوتی رہتی ہے۔ اسے نالہ نیم شب ہی نہیں محبوب کی یاد میں آنسو بہانے کا مفہوم بھی سمجھ میں آجاتا ہے۔ محبت کے جذبے کے سامنے بظاہر ناممکن اور اعمال کے معانی بدل جاتے ہیں کہ محبت پھیلے تو پوری کائنات اور سمٹے تو اک قطرہ خون کا نظریہ سچ ثابت ہوتا ہے۔
یہ ایک عجیب و غریب حقیقت ہے کہ محبت زندگی کے آغاز سے لے کے مرنے کے بعد تک ایک انوکھے اور بھر پور انداز میں زندہ رہتی ہے اور زندگی کا کوئی مرحلہ ، کوئی موڑ اور عمر کا کوئی حصہ محبت کے وار سے خالی نہیں رہتا۔ وہ لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں جنہیں محبت کا جذبہ قدرت کی طرف سے عطا ہوا اور پھر کوئی دوسرا شخص بھی اس سے محبت کرتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی کو دنیا داری کے حوالے سے محبت میسر آجائے تو اس کی قدر اور عزت افزائی کرنی چاہیے۔ اس معاملے میں ناقدری در حقیقت ناشکری کے زمرے میں آتی ہے کہ محبت شاذو نادر ہی کوشش اور سعی دانستہ سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک اور عجیب و غریب بات اس معاملے میں یہ سامنے آتی ہے کہ دو انسانوں کی محبت کا پیمانہ کبھی یکساں نہیں ہوتا کوئی ایک یا تو محبت میں دوسرے سے آگے ہوتا ہے یا وہ کچھ پیچھے ہوتا ہے۔ جو لوگ محبت ہی کو اپنے لیے سب کچھ سمجھ لیتے ہیں وہی محبت کے لیے تخت و تاج اور بڑی سے بڑی دولت کو ٹھکراتے ہیں۔ عشق والے تو انسانی اختیار میں ’’خدائی‘‘ بھی لٹا دیتے ہیں۔ عام طور پر محبت کرنے والے اپنے محبوب کے لیے اپنی جان کی قربانی دیا کرتے ہیں اور یہی ان کی معراج محبت ہوتی ہے کہ وہ اپنی انا قربان کر کے محبوب کو جب راضی کرتے ہیں تو انہیں بے پایاں مسرت اور بہت زیادہ خوشی محسوس ہوتی ہے۔ وہ ہر لمحے اپنے محبوب کی خوشی اور خوشنودی کو پیش نظر رکھتے ہیں۔
خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
مگر جن لوگوں کی محبت کا جذبہ خام ہوتا ہے وہی اپنی انا پر محبت کو ترجیح دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ صرف اپنے لیے ہی محبت کی انتہا چاہتے ہیں۔ محبت کے بدلے دوسرے کی محبت سے بڑھ کر جذبات پیش نہیں کرتے اور اپنی ہی انا کو اپنے لیے اصل اور آخری اثاثہ سمجھ لیتے ہیں۔ اس میں وہ خود غرضی اور محبت کے سمندر میں ڈوب جانے کی بجائے مصلحت اور ضرورت کے تقاضوں میں الجھ جاتے ہیں اور اس سے ان کی محبت کے خسارے کا سفر شروع ہوجاتا ہے ۔ وہ ہر دم محبت کے لیے قربانی دینے کی بجائے دوسروں کوموردِ الزام ٹھہرا کر اپنے اوپر بات نہیں آنے دیتے جبکہ جو لوگ محبت میں سچے اور کھرے ہوتے ہیں انہیں جب بے ساختہ اور وارفتگی میں ڈوبی ہوئی محبت جواب میں نہ ملے تو اس شعر کی صورت میں اپنے محبوب سے ایک سوال ضرور کرتے رہیں جو کچھ یوں ہوا کرتا ہے:
میں نے تو تن بدن کا لہو نذر کر دیا
اے شہر یار! تُو بھی کچھ اپنا حساب دے
دراصل محبت میں قربانی دینے والے لوگ کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوتے۔ انا قربان کرتے ہوئے کسی سوچ بچار میں نہیں پڑتے اور نہ ہی خود غرضی کی لہروں میں کھو کر محبت کے سمندر سے باہر نکلتے ہیں۔ وہ اپنی محبت کے لیے ہر قسم کی قربانی دے کر تمام تکالیف اور اذیتوں کو ہنسی خوشی برداشت کرتے ہیں ۔ بڑی سے بڑی قربانی دیتے ہوئے بھی ان کے قدم لڑکھڑاتے نہیں۔ وہ تو تکالیف برداشت کر کے چپ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یوں ان پر جو بھی گزرتی ہے ان کا دل ہی جانتا ہے۔ محبت کرنے والے اپنے احوال کو بھی بیان کرتے ہیں:ع
’’لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے‘‘
معروف شاعر مصطفی زیدی مرحوم نے بھی اپنے ایک شعر میں اس کیفیت کی کچھ اس طرح عکاسی کی ہے:
یہ دل ہی جانتا ہے، جو مجھ پر گزر گئی
دنیا تو لطف لے گی، میرے واقعات میں
اِدھر جن لوگوں کا جذبہ محبت خام ہوتا ہے وہ اپنے ادھورے پن پر پردہ ڈالنے کے لیے دوسروں کو الزام دیتے رہتے ہیں۔ اپنی بڑی سے بڑی غلطی کو تاہی انہیں نظر نہیں آتی اور دوسروں کی رائی برابر کمی بھی پہاڑ لگتی ہے۔ وہ اپنے اوپر بات آنے ہی نہیں دیتے، بلکہ دوسروں کو بلا وجہ الزام تراشی کر کے دکھ پہنچاتے رہتے ہیں۔ حالانکہ محبت میں اپنی انا کی قربانی سے بھی دریغ نہ کرنے والے کوئی شکوہ نہیں کرتے ۔ ان کی خاموشی پر بھی اپنے الزامات کا ڈھنڈورا پیٹنے سے باز نہیں آتے۔ انہیں اس بات کا بھی احساس نہیں ہوتا کہ جن پر بلاوجہ الزام لگایا جارہا ہے ان پر کیا گزرتی ہے ۔ وہ بے چارے تو یہی کہہ کر خاموش رہ جاتے ہیں:
ہم نے جینا ہے ابھی، اتنے الزام نہ دو
ہم نے کب بات تمہیں دل کی کہی ہے اب تک
ایسے بے قدرے، محبت کی معراج سے نا آشنا لوگ بد نصیب کہلاتے ہیں کہ وہ محبت میں انا کی قربانی کرنے والوں کی قدر و منزلت نہ کر سکے اور جب وہ بے لوث محبت کرنے والے ایثار پیشہ اور باوفا محبوب سے محروم ہوجاتے ہیں تو پھر وہ پچھتاوے کی آگ میں جلتے رہتے ہیں مگر اس وقت ان کا پچھتاوا کسی کام نہیں آتا۔ پھر انہیں اپنے آس پاس سے یہی آواز آتی ہے:
آئے عشاق، گئے وعدہ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ، چراغِ رُخِ زیبا لے کر
اور آخر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا خوبصورت قول کہ ہر کسی کو اتنی اہمیت دو جتنی وہ تم کو دیتا ہے۔ اگر کم دو گے تو مغرور کہلائو گے، اگر زیادہ دو گے تو خود گر جائو گے۔