پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قبول نہیں,ہرواقعےکاالزام پاکستان پرعائدکردینا بھارت کی عادت بن چکی :ترجمان دفترخارجہ

15 فروری 2018 (14:43)
پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قبول نہیں,ہرواقعےکاالزام پاکستان پرعائدکردینا بھارت کی عادت بن چکی :ترجمان دفترخارجہ

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے  کہا  ہے کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا براہ راست رکن نہیں ہے،فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک عالمی ادارہ ہے جو کہ جی سیون ممالک کی ایما پر بنایا گیا،بھارتی فوجی کیمپ سنجوان پر حملے کے بھارتی پولیس اور دفاعی حکام کے الزامات مسترد کرتے ہیں،کسی بھی واقعے کے بعد پاکستان پر الزام لگانا بھارت کا پرانا وطیرہ ہے، ماضی میں بھی بھارت خود اپنے ملک میں تخریب کاری کی کارروائیاں کرکے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہراتا رہا ہے، بھارتی الزامات کشیدگی کو بڑھاوا دے رہے ہیں،افغان قیادت کی جانب سے  راو انوار کی گرفتاری کیلئے دھرنے کو علیحدگی پسندی سے تعبیر دینا قابل مذمت ہے،روس طیارہ حادثے پر دلی افسوس ہے، پاکستانی حکومت اور عوام روسی عوام کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں. ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ امریکا ، برطانیہ ، فرانس سمیت چند ممالک پاکستان کو گرے ممالک میں شامل کرانے کی کوششیں کر رہے ہیں، اس کا مقصد پاکستان کی اقتصادی ترقی پر اثر انداز ہونا ہے، پاکستان کو فنانشل ٹاسک فورس کے نئے طریقہ کار پر تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فروری 2012 میں پاکستان ایف اے ٹی ایف کے گرے ممالک کی فہرست میں شامل تھا، بعد ازاں پاکستان کی قابل ستائش کاوشوں سے اسکو گرے ممالک سے نکال دیا گیا تھا، 6 جنوری 2018 میں پاکستان نے اپنی تازہ رپورٹ ایف اے ٹی ایف کو جمع کرائی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا 3 فروری کو پاک ، افغان ایکشن پلان برائے امن و استحکام سے متعلق مذاکرات کیے گئے ، ان مذاکرات میں 5 شعبوں میں ورکنگ گروپس نے مذاکرات کیے۔  ان کا کہناتھا کہ گزشتہ چند برس میں پاکستان کے ایران سے تعلقات بہتر ہوئے ہیں، پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے پر قائم ہے۔ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ افغان تنازع کا سیاسی حل مذاکرات سے تلاش کیا جانا چاہیے، افغان مسئلے کا حل افغانیوں کو سیاسی عمل سے خود تلاش کرنا ہے اور ہم عالمی برادری پر مذاکرات سے حل کی تلاش پر زور دیتے ییں۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحدی راہداری بند نہیں ہے، 2017 میں 4 سے 5 ہزار بے گھر خاندان افغانستان سے وطن واپس آئے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ افغان قیادت کی جانب سے سندھ پولیس کے افسر راو انوار کی گرفتاری کے لئے دھرنے کو علیحدگی پسندی سے تعبیر دینا قابل مذمت ہے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قابل قبول نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ  مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی کیمپ سنجوان پر حملے کے بھارتی پولیس اور دفاعی حکام کے الزامات مسترد کرتے ہیں، تحقیقات کے بغیر الزام لگانا افسوسناک اور غیرذمہ دارانہ ہے، اس طرح کے الزامات تنا میں بڑھاوے کا مجب بنتے ہیں، پاکستان ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی واقعے کے بعد پاکستان پر الزامات لگا دینا بھارت کا پرانا وطیرہ ہے، ماضی میں بھی بھارت خود اپنے ملک میں دہشت گردی کے واقعات کروا کرپاکستان کو موردِ الزام ٹھہراتا رہا ہے۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ وزیرِخارجہ خواجہ آصف تیونسی ہم منصب کی دعوت پر تیونس کا دورہ کررہے ہیں جس کا مقصد باہمی تعلقات کا فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا ہے۔ روس میں طیارہ حادثے کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثے پر دلی افسوس ہے، پاکستانی حکومت اور عوام روسی عوام کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔